انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 411
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۱۱ سورة الواقعة خاتم الکتب ہونے کا ہے اور جس نے دنیا میں یہ اعلان کیا کہ میں قیامت تک کے لئے غیر مبدل ہوں اور تمام حقائق زندگی اور حقائق زندگی میں جو اندھیرے اور سائے نظر آئیں میں ان میں روشنی پیدا کرنے کے سامان میرے اندر ہیں۔پس خاتم الکتب کے لئے یہ ضروری تھا کہ ہر زمانہ میں اس کے مخفی حقائق اور معارف مطہرین کے گروہ کو سکھائے جاتے اور دنیا کے سامنے وہ ان کو پیش کرتے۔پس ایک تو نئے اعتراضات کا رڈ کرنے کے لئے اور دوسرے نئے مسائل کے حل تلاش کرنے کے لئے نوع انسانی کو جو ضرورت تھی وہ ضرورت پورا کرنے کی خاطر مطہر مین کو اللہ تعالیٰ خود معلم بن کر قرآن کریم کے نئے معارف سکھاتا اور اس کے بطون میں سے کچھ ان پر ظاہر کرتا ہے تا کہ زمانہ جدیدہ کے مسائل حل ہو سکیں۔اور تیسری بات ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہدایت و شریعت ہے۔ایک ایسی حقیقت ہے جو ابدی ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے یعنی پہلی صداقتوں کو اس نے اپنے اندر لے لیا۔اس لحاظ سے پہلی ہدایتوں اور شریعتوں سے اس کا تعلق قائم ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے جن ہدایات کی ضرورت تھی وہ اس میں پائی جاتی ہیں۔دراصل یہ دعویٰ اس بات کے مترادف ہے کہ خدا تعالیٰ کی صنعت کی صفات بھی غیر محدود ہیں۔ہر چیز میں اس کی غیر محدود صفات نظر آتی ہیں کیونکہ حی و قیوم خدا سے ان کا گہرا تعلق ہے۔یہ صنعت خواہ کہکشاں (Galaxy) کی شکل میں لیں یعنی وہ بے شمار ستاروں کا مجموعہ جو ایک خاندان کی حیثیت سے بحیثیت مجموعی ایک جہت کی طرف حرکت کر رہا ہے اس طرح کی بے شمار کہکشائیں پائی جاتی ہیں۔ایک بڑا یونٹ میں نے لے لیا ہے۔ہمارے علم کے مطابق خدا تعالیٰ کی صنعت کا ایک بہت بڑا وجود کہکشاں کی صورت میں ہے اس کو لیں یا کیڑے کے ایک پاؤں کو لیں جو ایک چھوٹی سی چیز ہے۔خدا کی مخلوق میں سے بڑی سے بڑی چیز لیں یا بظاہر چھوٹی سے چھوٹی چیز لیں۔کسی کو بھی لیں جو چیز خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس کے اندر غیر محدود صفات پائی جاتی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے اور آج کا انسان یہ ماننے پر مجبور ہے کہ خدا تعالیٰ کی خلق اور صنعت میں غیر محدود صفات پائی جاتی ہیں مثلاً میں جب اس دورہ میں تھا تو ایک دن مجھے ڈاکٹر سلام صاحب کہنے لگے کہ اس وقت تک ساری دنیا اس بات پر متفق تھی کہ اس عالمین (Universe) کی بعض چیزوں میں صرف ایک اصول چلتا ہے۔