انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 407
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۰۷ سورة الواقعة مکمل شریعت دی ہے اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قرآن عظیم میں قیامت تک انسان کے تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور طاقت رکھی گئی ہے۔یہ کوئی معمولی دعوی نہیں ہے بلکہ اس کی ابدی صداقت کے طور پر یہ بھی فرما دیا: - لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی مطہروں کا ایک سلسلہ پیدا ہوتا رہے گا اور خدا تعالیٰ جو معلم حقیقی ہے وہی ان کا اُستاد ہوگا۔وہ اُن کو نئے سے نئے اسرار قرآنی بتائے گا جن کے ذریعہ وہ دُنیا کے مسائل کو حل کرواتا چلا جائے گا۔اس حقیقت کی رُو سے ہوسکتا ہے کسی نے اشارہ پہلے بھی ایسا کہا ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی کتب میں تو ہر مسئلے کا بیچ ہمیں نظر آتا ہے۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۳۱،۳۰) ہر نئے زمانہ میں لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ خدا تعالیٰ کے مظہر بندے پیدا ہوں گے جو خدا تعالیٰ سے قرآنی علوم و اسرار سیکھ کر اپنے زمانہ کے مسائل کو حل کریں گے اور اس طرح پر عظیم دلیل پیدا کریں گے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر اگر ایسا نہ ہو اگر اسلامی تعلیم آج کا مسئلہ حل نہ کرے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ درست نہیں رہتا کہ قیامت تک کے لئے میں نبی ہوں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ ۱۵۷) وہ باطنی اسرار جو قرآن عظیم اس کتاب عظیم اور اس کامل اور مکمل شریعت میں پائے جاتے ہیں وہ بطون ہر نئے زمانہ میں نئے زمانہ کے نئے اعتراضات کو دور کرنے کے لئے موجود ہیں اور نئے زمانہ کی نئی الجھنوں کو سلجھانے کے لئے اس کے اندر تعلیم موجود ہے اور اس کے متعلق قرآن عظیم نے نوع انسانی کے سامنے یہ اعلان کیا کہ یہ کتاب مکنون میں پوشیدہ ہیں اسرار ہیں۔لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ سوائے اللہ تعالیٰ کے مظہر بندوں کے جن کا معلم معلم حقیقی خود بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود ان کو علوم قرآنی سکھاتا اور نئے زمانہ کی دونوں ضرورتوں ( نئے اعتراضات کا دور کرنا اور نئی الجھنوں کا سلجھانا) کو پورا کرتا ہے۔اس پہلو سے چار باتیں بنیادی طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں اور چوتھی کا آج کے زمانہ سے تعلق ہے۔انسانی زندگی ایک جگہ ٹھہری ہوئی نہیں۔اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور جوں جوں انسان کے اندر تبدیلی ہر لحاظ سے پیدا ہوتی ہے اسکے ایک پہلو کو ہم لے لیتے ہیں یعنی علم انسانی میں وسعت اور رفعت کی طرف ایک مسلسل حرکت حصول علم کی جو حرکت ہے اس میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ایک