انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 405
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۰۵ سورة الواقعة بڑھاپے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو انقلاب جوانی میں داخل ہوتا ہے وہ اپنے بعض مسائل کو ایثار اور قربانی سے حل کرتا ہے۔اور جو انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل ہوتا ہے وہ اپنے مسائل کو ( COMPROMISE) کمپرومائز یعنی سمجھوتے کے ذریعے حل کرتا ہے۔کمپرومائزیا مداہنہ اپنے نفس میں تضاد ہے اور صراط مستقیم سے روگردانی ہے۔کیونکہ صراط مستقیم میں کسی اور طرف سڑکیں نہیں نکلتیں۔وہ ایک سیدھی شاہراہ ہے۔اس سے ادھر ادھر ہونا گمراہی ہے۔غرض مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ کا ایک جلوہ تو انقلاب عظیم کی شکل میں قرون اولیٰ میں رونما ہوا۔دوسرا جلوہ آخری زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی روحانی تاثیرات اور انفاس قدسیہ کے ذریعہ بپا ہونا تھا۔اس زمانے میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔اس زمانے میں بھی نجوم کا سلسلہ جاری ہے۔پھر اس کے آخر میں فرمایا أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ انتُم مُّدْهِنُونَ کیا اس قرآن کے بارے میں تم مداہنت سے کام لیتے ہو۔یہ تو مسائل کو حل کرنے کے لئے مداہنت یعنی کمپرومائز کو روانہیں سمجھتا یہ تو ایثار اور قربانی پر زور دیتا ہے اور اس میں مداہنت نہیں البتہ کمپرومائز میں مداہنت ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ اپنے نفس میں ایک لمبا مضمون ہے پھر کسی وقت انشاء اللہ بیان ہو جائے گا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ میں جس روحانی سلسلہ کے قیام کا ذکر ہے وہ سلسلہ اب آخری اور ہمیشہ رہنے والے غلبہ اسلام کے زمانہ میں داخل ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم کا نازل ہونا رب العالمین خدا کی طرف سے ہے کیا تم اس سے مداہنت کا رویہ اختیار کرتے ہو۔قرآن کریم کی تعلیم سے مداہنت کرنا تو بڑی عجیب بات ہے۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۳۶۵ تا ۳۷۰) قرآن کریم کے جو علوم ہیں جو روحانی علوم ہیں ان کے ساتھ تقویٰ کی شرط ہے۔تقویٰ کے بغیر قرآنی علوم قرآنی اسرار، روحانی اسرار انسان حاصل نہیں کر سکتا۔تقویٰ کے معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے خوف کھاتے ہوئے اس کی پناہ میں آجانا اور خدا تعالیٰ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر رکھ لینا۔تمام اوامر الہی اور نواہی کی پابندی کرنا اور اپنے نفس کو خدا کے لئے مار کر اسی سے ایک نئی زندگی کا پالینا یہ سب تقویٰ اور اس کے نتائج ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ جب تک تزکیہ نفس نہ ہو علوم قرآنی