انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 403
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۰۳ سورة الواقعة فرمايا: - مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِن شَيْءٍ انسانی ضرورتوں کے لحاظ سے علم الہی میں جو چیز بھی ضروری تھی وہ اس میں بیان ہو گئی ہے۔فرمایا ہم نے کوئی کمی نہیں کی۔ہمارے علم میں جس چیز کی ضرورت تھی وہ اصولی اور بنیادی طور پر قرآن کریم میں بیان کر دی گئی ہے۔پس ہمارے اس زمانے میں وہ چاند آ گیا۔وہ قمر طلوع ہو گیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی آفتاب کا پر تو لئے ہوئے ہے۔اس طلوع قمر کے نتیجہ میں بھی جو نجوم کی ضرورت ہے وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔اگر چہ یہ سلسلہ ایک وقت میں کم ہو گیا تھا مگر اس وقت بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے فیج اعوج یعنی اسلام کے تنزل کے زمانے میں لاکھوں کی تعداد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیض کے نتیجہ میں خدا کے پیارے اور محبوب بندے پائے جاتے تھے۔اب تو بہت زیادہ ہونے چاہئیں کیونکہ ضرورتیں بڑھ گئیں مسائل اور بھی زیادہ الجھ گئے ہیں (یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اب میں یہیں اس کو ختم کروں گا لیکن اس خطبہ میں اس کا جوڑ ملا دیتا ہوں ) حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دنیا میں ایک عظیم انقلاب بپا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی کتب میں کئی جگہ اس کی بڑی وضاحت فرمائی ہے۔اس عظیم انقلاب کا مطلب ایک ایسا انقلاب ہے جس سے بڑا کوئی اور انقلاب تصور میں نہیں آسکتا جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ داری کے انقلاب یا اشتراکیت کے انقلاب یا چینی سوشلزم کے انقلاب کی اس انقلاب کے مقابلے میں جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا کوئی حیثیت ہی نہیں۔چنانچہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی مصلحت نے یہ تقاضا کیا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے یکے بعد دیگرے تین انقلاب رونما ہوں۔اور اس طرح اسلامی انقلاب کے رونما ہونے کے لئے زمین تیار ہو جائے۔جن لوگوں نے یہ مضمون پڑھا ہے وہ تو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔لیکن بعض لوگ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ روسی اشتراکیت اور چینی سوشلزم کے پیر و سرمایہ داری کے نظام کو ( REACTIONARY ) ری ایکشنری نظام کہتے ہیں ( REVOLUTIONARY ) ریوولوشنری نظام نہیں کہتے۔میرے نزدیک وہ غلطی خوردہ ہیں۔سرمایہ داری کا نظام اپنے وقت میں پہلا انقلاب تھا۔یہ واقع میں انقلاب ہے کسی چیز کا رد عمل نہیں ہے اگر سرمایہ داری کا انقلاب بپا نہ ہوتا تو اشتراکیت کا انقلاب پیدا نہیں ہوسکتا