انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 402
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۰۲ سورة الواقعة ہے۔نے یہ فرمایا فی کتب مكنون وہاں ابتداء کی ہے نجوم کے گرنے سے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقع النُّجُومِ نجوم کے گرنے کو میں گواہی کے طور پر پیش کرتا ہوں۔کہ خدا تعالیٰ ہر زمانے میں علمائے باطن کو پیدا کرے گا۔روحانی علماء پیدا ہوتے رہیں گے۔لیکن امت محمدیہ کا جو حصہ علمائے ظاہر پر مشتمل یا ان کے اثر کے نیچے ہو گا ان کے لئے یہ چمکنے والے ستارے ہدایت کا موجب نہیں بنیں گے۔ان کے لئے ان کی روشنی دھندلی دھندلی ہوگی وہ اسے سمجھ نہیں سکیں گے جیسا کہ آج کل دیکھ لیں۔ہمارا تجربہ بھی یہی ہے۔دنیا میں علمائے ظاہر نے باطنی علماء کی روشنی کو دھندلا کر دیا ہے۔تريم پس اللہ تعالیٰ نے فرما یا لا أقسم بمواقع النُّجُومِ یعنی میں نجوم کے گرنے کی قسم کھاتا ہوں۔پھر فرمایا وَ إِنَّهُ لَقَسَم لَوْ تَعلَمُونَ عَظیم فرمایا یہ بڑی عظمت والی شہادت ہے جو میں پیش کر رہا ہوں اور عظمت والی شہادت یہ پیش کی کہ اِنه لقران کریم کہ قرآن کریم بڑی عظمت والی کتاب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ فی کتب مکنون یہ ایک چھپی ہوئی کتاب ہے۔اس کے اندر ایسے رموز اور اسرار ہیں جو آنے والے زمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ مَا فَرَّطْنَا في الكتب مِنْ شَيْءٍ کہ اس میں بیان ہونے سے کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی۔بعض بیوقوف لوگ یا بعض دنیوی علوم رکھنے والے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چودہ سو سال پہلے جو کتاب نازل ہوئی تھی وہ ہماری ضرورتوں کو کیسے پورا کرے گی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس طرح پورا کرے گی کہ میں خود اُمت محمدیہ کے ایک گروہ کا معلم بنوں گا۔میں ان کو ہر زمانہ میں علم سکھاتا ہوں۔ان کی پاکیزگی کو دوبالا کرتا ہوں۔ان کو روشن کرتا ہوں۔ان کے اندر طہارت اور تزکیہ پیدا کرتا ہوں انہیں اس قابل بنادیتا ہوں کہ قران کریم کے سیکھنے کی ان کے اندر اہلیت پیدا ہو جائے جس کی پہلی اور بڑی شرط طہارت ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پھر اس کے بعد فرما یات نُزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی ہونا چاہیے تھا کیونکہ قرآن کریم ایک صدی کے لئے یا ایک نسل کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ تو رب العالمین کی طرف سے عالمین کی ہدایت کے لئے ہر زمانے اور ہر ملک کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآنی عظمت کے اظہار کے لئے یہ دعویٰ بھی کیا اور دلیل بھی بیان فرمائی اور