انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 401

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۰۱ سورة الواقعة تفسیر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی شکل میں انسان تک پہنچی یا صلحائے امت کی کتب جو اُ نہوں نے لکھیں یا اقوال جو تحریر میں آئے ، یا پھر اس زمانہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند نے زمانہ حاضرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم کی تفسیر ہمارے ہاتھ میں رکھی۔یہ وہ بھی کاغذ کے اوپر کتابیں دُنیا میں پھیلائی جارہی ہیں اس معنی میں یہ تذکرہ ہے۔اور پھر تیسری چیز جس کا ذکر یہاں ہے وہ یہ کہ لکڑی میں مسافروں کی سہولت کا سامان رکھا گیا ہے جیسے کشتیاں ہیں ایک زمانہ میں تو لکڑی کی کشتیاں بنتی تھیں۔ہمارے دریاؤں میں ڈونیاں ہیں بڑے جہاز یہاں نہیں ہمارے شمالی علاقوں میں بھی بڑے بڑے جہاز تو نہیں ہیں البتہ چھوٹی کشتیاں ضرور چلتی ہیں جو کہ لکڑی کی بنی ہوئی ہیں یہ لکڑی کی کشتیاں مسافروں کے کام آتی ہیں بڑے جہاز جو ہیں وہ اگر چہ لوہے کے خول اُنہوں نے بنا دیئے ہیں لیکن اندر سارا کام لکڑی سے کیا جا رہا ہے تو مسافروں کے آرام کے لئے سامان پیدا کر دیئے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۹،۵۸) آیت ۷۶ تا ۸۲ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقع النُّجُومِ وَ إِنَّهُ لَقَسَم لَو تَعلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ لى فِي كِتَب مَّكْنُونٍ لَا يَمَسُّةَ رووو إلَّا الْمُطَهَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنْتُم مدهِنُونَ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سورج کی روشنی تو قیامت تک قائم رہنے والی ہے مگر جس طرح ہمارا یہ سورج ہے جب دن چڑھتا ہے اور سورج طلوع ہوتا ہے تو ایک نابینا شخص اسے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح علمائے ظاہر کے غلط استدلال کے نتیجہ میں امت محمدیہ کے افراد کی نظر میں علمائے باطن یعنی روحانی علماء دھندلا جاتے ہیں۔اُن کی روشنی ان کو نظر نہیں آتی کیونکہ ان کی آنکھیں کام نہیں کرتیں۔لیکن انسان کی غفلت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے علمائے باطن کی پیدائش کا ایک سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری کر رکھا ہے۔چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ