انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 400
تفسیر حضرت علیلة اسم الثالث سورة الواقعة آیت ۷۲ تا ۷۴ اَفَرَوَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُوُرُونَ وَاَنْتُمْ اَنْشَاتُم شَجَرَتَها اَم نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَ مَتَاعًا لِلْمُقُوين جو آیات میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی فوائد درختوں کے بتائے ہیں ایک یہ کہ لکڑی سے ہم گرمی حاصل کرتے ہیں آگ جلاتے ہیں، آگ سے ہزار ہا کام ہیں ہمارے جن کا تعلق آگ سے ہے۔ہمارا کھانا پکتا ہے آگ پر ، بہت سی انڈسٹریز ہیں جن میں لکڑی جلتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی شان بتائی ہے کہ تم درخت کا بیج لگا سکتے ہو یا پودا اگا سکتے ہو لیکن اس حالت میں بیچ کا پہنچ جانا جب لگانے کے قابل ہے یا بعد میں بڑھنا، یہ انسان کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اس سے دُعا اور تضرع کے ساتھ مانگنا چاہیے۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کی شان ہر جگہ نظر آتی ہے، درختوں میں بھی اور اس کی دوسری مخلوقات میں بھی، بے حد اس کی صفات ہیں اس کی خلق کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود ہیں، اس لئے جو چیز اس کی دست قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کی صفات بھی اور خواص بھی غیر محدود ہیں۔انسان ان پر حاوی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ پچھلے دوسوسال میں لکڑی سے وہ کام لئے گئے ہیں جو اس سے پہلے نہیں لئے گئے چنانچہ چپ بورڈ ایک نئی ایجاد ہے یہ بھی لکڑی سے بنتی ہے۔اور ایک تو خدا تعالیٰ نے یہاں اس طرف توجہ دلائی کہ ہمارے حکم سے درخت پلتے ہیں اس لئے خالی درخت کا لگانا کافی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کے حصول کے لئے اس کے حضور عاجزانہ دعائیں اور اس کی خاطر عاجزانہ راہوں کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔دوسرے فرمایا کہ اس میں ہم نے نصیحت کے سامان رکھے ہیں ایک تو جو میں نے ابھی بتایا وہ نصیحت ہے اور دوسرے نصیحت کے سامان یہ کہ اب ان درختوں سے ہمارا کاغذ بننے لگ گیا ہے اور کتا بیں شائع ہوتی ہیں مثلاً قرآن کریم جو کہ ذکر کی کتاب ہے ساری دُنیا میں اس کا پھیلا نا جو ہے درخت اس کے اندر خدمت کر رہے ہیں اور محمد و معاون بن رہے ہیں یہ ہے تذکرہ۔پھر قرآن کریم کی