انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 31
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۱ سورة لقمن فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ہر چیز میں بے شمار خاصیتیں رکھی گئی ہیں۔گویا اس کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگادی گئی ہے۔مگر یہ پکے ہوئے پھل کی طرح کسی آدمی کی گود میں آکر نہیں گرے گی پکا ہوا پھل بھی گود میں نہیں گرتا اس کے لئے بھی بسا اوقات درخت پر چڑھنا پڑتا ہے۔اُسے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اس لئے فرمایا تم جتنی کوشش کرو گے اس کے مطابق اشیاء سے خدمت لے لو گے لیکن ساتھ ہمیں یہ بھی کہہ دیا ( ہمارا رب بڑا پیار کرنے والا ہے ) کہ میری مخلوق سے خدمت تم لے سکتے ہو صیح ذریعہ سے بھی اور خدمت تم لے سکتے ہو غلط ذرائع کو اختیار کر کے بھی۔فرما یا غلط ذرائع کو اختیار نہ کرنا۔جو جائز اور ٹھیک ذرائع ہیں جن کو اپنی اصطلاح میں صراط مستقیم کہا جاتا ہے اُن کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرو گے تو کس نتیجہ پر پہنچو گے۔اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ اسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً الله تعالیٰ نے اس عالمین کی ہر چیز کو تمہاری خدمت پر لگا دیا اور تمہارے اندر طاقتیں پیدا کیں کہ تم اس کی مخلوق سے فائدہ حاصل کر سکو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں صراط مستقیم کو کھول کر بیان کر دیا اور تمہیں اس قابل بنادیا کہ نہ صرف یہ کہ تم بے شمار نعمتوں کے وارث بنو بلکہ اس مقام تک بھی پہنچو کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً دُنیا میں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔کسی انسان نے اپنی ول پاور (Will Power) اور خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کیا۔پس خدا تعالیٰ کی یہ بے شمار نعمتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم خدا کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیاں گزاریں اور خدا تعالیٰ کے مزید فضلوں کے وارث بنیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(خطبات ناصر جلد ۵ صفحه ۴۹۴ تا ۵۰۱) وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرة: ۲۵۶) کا جو اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کے دروازے ہم پر کھولے اور جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً بامحاورہ اس کا ایک ہی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ چھت پھاڑ کے دیتا ہے آسمانوں سے اس طرح اس کی نعمتیں نازل ہو رہی ہیں۔علمی لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ اتنا دے، اتنا دے کہ جتنا دنیا شاید نہ سنبھال سکے جماعت احمدیہ کو اس کے سنبھالنے کی بھی توفیق دے اور جماعت اسے سنبھال سکے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۵۸۹) کیا تم لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسے تمہاری