انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 399
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّجِيمِ ۳۹۹ سورة الواقعة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الواقعة آیت ۶۵ وَ اَنْتُمْ تَزْرَعُونَةٌ أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ۔اللہ تعالیٰ رب ہونے کے لحاظ سے تمام عالمین کی اور اس عالمین کے ہر فرد کی ربوبیت کر رہا ہے اور ہر ایک کو کمال مطلوب تک پہنچا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ مثلاً جو درخت اُگیں عام قانون کے مطابق جب اُن کی پرورش کی جائے اور وہ بڑے ہوں تو ثمر آور ہوں۔ہمارے اکثر زمیندار بھائی جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ آخر کس کے بھروسے پر گندم کا بیج زمین میں ڈال آئے ہیں۔اپنے اس رب کریم کے بھروسے پر جس نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔عَاَنْتُهُ تَزْرَعُونَ أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ کیا کھیتیاں تم اُگاتے ہو ؟ نہیں! کھیتیوں کو تو میں اُگا تا ہوں اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی بناء پر تم نے خدا پر بھروسہ کیا کیونکہ وہ رب ہے۔اب دیکھو گندم جس کو مالک نے زمین میں ڈال دیا اس کے متعلق ہمارے رب کریم نے کہا میں اس کی پرورش کر دوں گا اور ایک سے سات سو بنادوں گا اور یہ اس لئے کہ اس کی ربوبیت سارے عالمین میں کارفرما ہے۔سورج، چاند اور ستاروں کے علاوہ بعض ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی ابھی تک زمین پر نہیں پہنچی۔غرض یہ کائنات اور اس میں موجود کروڑوں کیڑے جو انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اُن کو پیدا کیا اور ان کی ربوبیت کرتا چلا جا رہا ہے۔(خطابات ناصر جلد اول صفحہ ۵۸۶)