انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 397
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۷ سورة الرحمن کو بجالانے والیاں یعنی ایسے اعمال جن میں کوئی فساد نہ ہو اور مُطَهَّرَةٌ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ عورتوں کا وہ گروہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بد رسوم اور مشرکانہ بدعتوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور ان کا وجود دنیا کے وجود سے بالکل علیحدہ کر دیا گیا ہے بلکہ اس دنیا میں رہتی ہوئی بھی وہ جنت کی حوروں کی مانند بن گئی ہیں یعنی وہ ہر اس گند سے اور شنیع اور قبیح فعل سے پاک ہیں کہ جن میں کا فرات ملوث ہوتی ہیں۔یہ وہ عورتیں ہیں کہ جن کے گھروں میں کسی قسم کی بد رسم نظر نہیں آتی یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے گھر اور اپنے ماحول سے مشرکانہ بدعتوں کو دور کرنے والی ہیں چونکہ یہ ازواج مطہرات ان لوگوں کو ملی ہیں اور چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ تو فیق عطا کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تو حید خالص کے ماحول میں تربیت کر سکیں اور ایک سچا اور پکا اور موحد مسلمان بنا سکیں اور اس لئے اگلی نسل شیطان سے محفوظ رکھنے میں یہ عورتیں کامیاب ہو جاتی ہیں اس لئے اس جنت کو دوام مل جاتا ہے اس لئے یہ جنت ایک نسل کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اگلی نسل کے لئے اور پھر اس سے اگلی نسل کے لئے بھی یہ دنیا کی جنت قائم رہتی ہے اور جو بشارتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان بشارتوں کی روشنی میں یہ جنت ہمارے لئے صدیوں تک قائم رہنی چاہیے۔اگر ہم اپنی ذمہ داری کو نباہنے والے ہوں ہم مرد بھی اور ہماری مائیں اور ہماری بیویاں اور ہماری بہنیں اور ہماری دوسری رشتہ دار عورتیں بھی تو اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اس جنت کو اس دنیوی جنت کو بھی ہمارے لئے ایک قسم کی ابدی جنت بنادے گالیکن اس کے لئے شرط یہی ہے کہ عورت اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف پوری طرح متوجہ رہے۔اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس معنی میں مطہرہ ہوں کہ کوئی بد رسم ان کے گھروں میں نہ ہو اور کسی مشرکانہ بدعت کے ساتھ ان کو کوئی تعلق باقی نہ رہے خالص توحید کا ماحول پیدا کرنے والی ہوں اور اس خالص توحید کے ماحول میں اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔( خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۳ تا ۵۹۵)