انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 394

تفسیر حضرت علیلیه اسبح الثالث ۳۹۴ سورة الرحمن میں کوئی شخص کسی دوسرے کو دکھ دینے کا باعث نہیں بنتا۔ہر شخص کو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کا سکون حاصل ہوتا ہے۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۱۱۶،۱۱۵) آیت ١ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔جس شخص پر احسان ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ایک اور زاویہ نگاہ سے مخاطب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : ۶۱) کہ کیا احسان کا بدلہ اور احسان کی جزا احسان کے سوا کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔یعنی جس شخص نے حسن سلوک کیا اس کو تو یہ کہا کہ تم نے بدلہ میں احسان کی توقع نہیں رکھنی کیونکہ تم نے جو کچھ کیا ہے میری خاطر کیا ہے اور جس کے ساتھ حسن سلوک ہوا تھا جس کی خاطر اس نے دکھ اُٹھائے تھے جس کی خدمت کی گئی تھی اس کو یہ کہا کہ اگر تم میری سچی پرستش کرنا چاہتے ہو تو یہ یاد رکھو۔مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله اگر تم اپنے خدمت گزار بندوں، اپنے پیار کرنے والے بھائیوں کی جو تمہاری خاطر دکھ اُٹھاتے ہیں اسی طرح خدمت کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گے ( جب بھی اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے) اور تمہارے دل میں شکر کے جذبات نہیں ہوں گے تو تم نے خدا تعالیٰ کی پرستش کا حق ادا نہیں کیا۔اگر تم تو حید خالص پر قائم رہنا چاہتے ہو اور اس حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہو کہ وَ مَا أَمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین تو تمہارا فرض ہے کہ جب کوئی بھائی تم سے محبت اور پیار کا احسان اور ایتائے ذی القربیٰ کا سلوک کرے تو تم اس کے مقابلہ میں اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اس سے بڑھ کر سلوک کرنے کی کوشش کرو اور اس کے لئے اپنے دل میں انتہائی شکر کے جذبات پیدا کرو۔شکر کے جذبات پیدا کرو۔یہ تعلیم تو احسان کا بدلہ لینے اور دینے سے متعلق تھی۔جزا اور سزا کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی نے کسی کو دکھ پہنچا یا ہو تو اس کے متعلق بھی جزا اور بدلہ کا سوال ہوتا ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے جو بنیادی حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ وَجَزَوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری:۴۱) یعنی جتنی کسی نے بدی کی ہے جتنا دکھ کسی نے پہنچایا ہے جتنا ظلم کسی نے کیا ہے جتنا مال کسی نے غصب کیا ہے اس سے زیادہ اسے نقصان نہ پہنچاؤ ، جتنی تھیں احساسات کو کسی نے پہنچائی ہے اتنی ٹھیس پہنچانے کی تمہیں اجازت ہے زیادہ کی نہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۶۱۲ تا ۶۱۳ )