انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 393
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۳ سورة الرحمن میں خدا تعالیٰ کی بلندشان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر وقت اس کے خوف کا احساس اپنے دل میں رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں اپنے عمل کا ایک تحفہ اپنے خدا کے حضور تو پیش کر رہا ہوں۔آگے اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے ہم ایسے شخص کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ ہم اسے دو جنتیں دیں گے۔ان میں سے ایک جنت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو اس دنیا میں عطا کرتا ہے اور دوسری جنت وہ ہے جو اُخروی زندگی میں یعنی اس دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مومن کو نصیب ہوتی ہے۔غرض اس خوف کی وجہ سے جس کی تلقین خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ہمارے دلوں میں مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور نہ اسے پیدا ہونا چاہیے کیونکہ خوف اپنی جگہ پر قائم ہے اور امیدا اپنی جگہ پر قائم ہے۔گو ہمیں ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی زندگی کے کسی لمحہ میں بھی ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی مومن کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کافر کی علامت قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔إِنَّهُ لَا يَا يُعَسُ مِنْ روح الله اِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف : ۸۸) اصل بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کا فرلوگوں کے سوا کوئی انسان نا امید نہیں ہوتا۔غرض خوف اور مایوسی میں بڑا فرق ہے اور ہمیں اس فرق کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ کہا ہے کہ وہ شخص یا قوم جو خوف کے مقام کو اختیار کرتی ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارتی ہے۔وہ اسے دو جنتیں دیتا ہے ایک جنت اسے اس ورلی زندگی میں عطا ہوتی ہے اور ایک جنت اُخروی زندگی میں اسے ملتی ہے ورلی زندگی کی جنت کا اس حدیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر آیا ہے جو میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں سنائی تھی۔کیونکہ جس معاشرہ میں غیبت نہ ہو۔جس معاشرہ میں فخر و مباہات نہ کیا جائے۔جس معاشرہ میں کوئی شخص بھی اپنے بھائی سے تکبر کے ساتھ پیش نہ آئے اس میں عجب اور خود پسندی کا مظاہرہ نہ ہو کوئی ایک دوسرے پر حسد نہ کر رہا ہو۔بلکہ سارے ہی ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوں جس معاشرہ میں خدا تعالیٰ کی عبادت ریا کے طور پر نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ ہو یعنی ہر ایک شخص مخلصانہ دل کے ساتھ اپنے رب کو یاد کر رہا ہو۔تمام لوگ اپنے تمام اعمال محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر بجالاتے ہوں۔تو ایسا معاشرہ یقینا جنت کا معاشرہ ہے۔جس