انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 389 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 389

تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۳۸۹ سورة الرحمن صاحب تقویٰ ہوں جیسا کہ فرمایا۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُم (الحجرت : ۱۴) یعنی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہی عزت پاتے ہیں جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن ہوتے ہیں اور رضائے الہی کی باعزت جنتوں میں اللہ تعالیٰ ان کا ٹھکانہ بناتا ہے۔پس یہاں ایک طرف یہ فرمایا کہ اس دنیا میں نہ کسی شخص نے باقی رہنا ہے اور نہ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس کے اعمال نے باقی رہنا ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ یہاں کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ تم پر کلی فنا وارد نہیں ہوگی بلکہ تمہاری ارواح کو دوسرے اجسام دے کر ایک دوسری دنیا میں زندہ رکھا جائے گا۔اس لئے بے فکر نہ ہونا یہ سمجھتے ہوئے کہ مرنے کے ساتھ تمہارا معاملہ خدا تعالیٰ سے کلیۂ کٹ چکا ہے وہ کٹا نہیں بلکہ اے انسانو اور اے آدم زادو! تمہارے ساتھ ہمارا واسطہ ابد تک قائم رہے گا۔تمہاری ارواح کو ہم نے زندہ رکھنا ہے۔یہ خدائے ذوالجلال اور ذوالاکرام کا فیصلہ ہے۔وَجهُ رَبَّكَ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اعمال جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اور اس کی توجہ اور رضا کو جذب کرنے کے لئے بجالاتا ہے۔تو یہاں یہ فرمایا کہ انسان کے تمام اعمال ہلاک کر دئے جاتے ہیں سوائے ان اعمال کے جن کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش رکھتا ہو جو خالصہ خدا تعالیٰ کے لئے کئے گئے ہوں۔اس کی رضا جوئی میں بجالائے گئے ہوں ایسے اعمال پر فنا وارد نہیں ہوتی۔جو اعمال ایسے نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان پر ہمارے منشاء اور قانون کے مطابق فناوارد ہو جاتی ہے ایسے اعمال کی فنا اور ان کے نیست و نابود کئے جانے کے متعلق جو باتیں ہمیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایک تو خدا تعالیٰ ایسے اعمال کے بجالانے والوں کو اس دنیا میں ہی سزا دے کر ان کے بعض اعمال کو باطل کر دیتا ہے۔یعنی کچھ بد اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کو ان کی سزا اس دنیا میں ہی مل جاتی ہے اور اُخروی زندگی میں ان کی سزا پھر اسے نہیں ملتی۔ہاں دوسرے ایسے بد اعمال کی سزا اسے اُخروی زندگی میں ملتی ہے جن کی سزا اسے اس دنیا میں نہیں مل چکی ہوتی۔دوسرے خدا تعالیٰ ایسے بد اعمال کو اس طرح بھی ہلاک کرتا ہے کہ ان کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو ان کے بجالانے والے نکالنا چاہتے ہیں۔مثلاً وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کے رسول اور اس کے سلسلوں کو ہلاک کرنے اور انہیں مٹانے کے لئے منکرین بجالاتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ بے نتیجہ کر دیتا ہے اور اس طرح