انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 375
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۷۵ سورة النجم کی طاقت ختم ہوگی۔وہ دوسرے کی دس اکائیاں کہاں سے پوری کرے گا اگر اس کی طاقت سوا کائیاں ہے تو سو اس نے دے دینی ہیں ایک سو دس وہ کہاں سے لائے گا۔پس الا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری یہ ایک اٹل قانون ہے۔اگر زید اپنی پوری طاقت کے مطابق خدا کے حضور پیش نہ کرے تو زید کی طاقت کے اظہار یعنی محنت اور جانفشانی میں جو کمی رہ گئی ہے یہ کمی کوئی دوسرا پوری نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا اپنا ایک دائرہ استعداد ہے اور اس دائرہ استعداد کی انتہا تک اس کی ذمہ داری ہے۔دوسرے کی ذمہ داری وہ کیسے اُٹھائے گا۔اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى - دوسرے کا بوجھ تو وہ اُٹھا ہی نہیں سکتا یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ اٹل قانون ہے کہ انسان دوسرے کا بوجھ اور ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔زید بکر کی ذمہ داریاں نہیں اُٹھا سکتا اور بکر زید کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔ہر شخص کو اپنی ذمہ داریاں خود ہی ادا کرنی پڑیں گی اور ادا بھی اس طرح نہیں کرنی ہوں گی کہ کچھ دیا اور بقیہ کے متعلق بخل کر دیا بلکہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اپنی طاقت کو انتہا تک پہنچا کر اس کا آخری حصہ تک ادا کرنا پڑے گا کیونکہ دوسرا کوئی ہے ہی نہیں جو کمی کو پورا کر سکے۔عقلاً بھی کوئی دوسرا اس کمی کو پورا نہیں کرسکتا۔یہ خدا کا اٹل قانون ہے کیونکہ جو دوسرا ہے اس کو جتنی طاقت دی گئی تھی اس کے مطابق کام کرنے کی تو اس کی اپنی ذمہ داری تھی اور دوسرے کی ذمہ داری اُٹھانے کی اسے طاقت ہی نہیں ملی۔اس کی طاقت کا کوئی حصہ ایسا نہیں رکھا گیا جس کے بارہ میں اسے کہا گیا ہو کہ تو دوسرے کی ذمہ داری اٹھالے۔وہ دوسرے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ہرگز نہیں اٹھا سکتا۔پس جو قوم اپنے مقام کی انتہا کو پہنچنا چاہے ، اس کے ہر فرد کی ایسی تربیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو انتہا تک پہنچانے والا ہو۔فرض کرو ایک لاکھ کی کوئی قوم ہے اگر ان میں سے نوے ہزار اپنے دائرہ استعداد کے مطابق یعنی لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جس قسم کے مکلف ہونے کا ذکر ہے اس کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک پہنچا دے اور دس ہزار نہ پہنچا ئیں تو جو کام دس ہزار سے رہ گیا ہے، کسی اور کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ پورا کر سکے۔یہ بالکل ناممکن ہے خدا تعالیٰ نے اس کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں دی پس اگر یہ کمی رہ گئی تو ایک لاکھ آدمی اپنے مقام کی انتہا کونہیں پہنچ سکے گا کیونکہ دس ہزار نے کمزوری دکھا دی۔پھر فرمایا کہ انسان کو اس کی سعی کے مطابق ہی ملا کرتا ہے۔میں اب یہاں یہ معنی کروں گا کہ بنی نوع