انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 373

تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۷۳ سورة النجم نہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ان چھپی ہوئی، پوشیدہ، ایسی کمزوریوں کو جاننا جن پر انسان خود بھی اطلاع نہیں رکھتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔یہ انسان کر ہی نہیں سکتا۔اس لئے اسلام کی اس تعلیم کا جو حصہ ہے، اس کا خلاصہ اس فقرہ میں بیان کیا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد سمجھو کہ کچھ نہیں کیا۔اس لئے کہ قبول کرنا یا نہ کرنا، یہ واللہ تعالیٰ کا کام ہے۔کوئی شخص ساری ساری رات خدا کے حضور بظاہر دعائیں کرنے کے باوجود خدا کا پیارا نہیں بنتا۔مالی قربانیاں دینے کے بعد ، وقت کی قربانی دینے کے بعد نفس کی قربانی دینے کے بعد ، عزت کی قربانی دینے کے بعد خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کرسکتا جب تک خدا تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول نہ کرے۔اس سلسلہ میں حکم قرآن کریم میں یہ بیان ہوا ہے کہ لا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ خود اپنے نفس کو اور ایک دوسرے کو ( یہ دونوں مفہوم اس میں آتے ہیں ) پاک اور مطہر نہ قرار دیا کرو۔مختلف آیات میں یہ مضمون اور اس کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔چند ایک آیات آج کے خطبہ کے لئے میں نے منتخب کی ہیں۔میں کوشش کروں گا کہ مختصر خطبہ دوں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔سورہ نجم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ اتَّقُی۔دنیا میں خدا کے علاوہ کوئی وجود تمہیں اتنا نہیں جانتا جتنا خدا جانتا ہے۔سب سے زیادہ تمہیں اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے۔آگے دلیل دی کیونکہ اسلام حکمت سے پر مذہب ہے۔إِذْ أَنْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ اس وقت سے جانتا ہے کہ جب اس نے زمین کے ذروں کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہارے وجود کا حصہ بنیں۔ابھی ماں کے پیٹ میں تم نہیں گئے لیکن زمین کے ذرے کچھ ایسے پیدا کئے گئے تھے جو تمہارے جسم کا حصہ بنے۔ہر فر د واحد مختلف مجموعہ ہے ذرات کا۔وہ ذرات اس کے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔إِذْ انْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ جب تم کو اس نے زمین سے پیدا کیا اس وقت سے وہ تمہیں جانتا ہے تو یہ ذرات ہیں جو فلاں فرد واحد کے جسم کا حصہ بنیں گے۔وہ اس کا جسم بنادیں گے۔وَإِذْ انْتُم أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں ابھی پوشیدہ تھے۔پیدائش بھی تمہاری نہیں ہوئی تھی۔خدا تعالیٰ اس وقت بھی جانتا تھا۔تم اس وقت اپنے آپ کو جانتے تھے؟ نہیں، کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا اپنے ہوش و حواس میں کہ میں اپنے نفس سے واقف تھا اس وقت جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔پیدائش کے بعد کے واقعات بھی نہیں جانتا۔بعض بڑے