انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 366
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۶۶ سورة النجم سے ورے رہ کر ختم نبوت میں کوئی خلل پڑتا ہے مثلاً ہمارے سامنے پہاڑیاں ہیں۔ایک شخص سبہ سے اونچے پتھر پر کھڑا ہے۔وہاں صرف ایک آدمی ہی کھڑا ہو سکتا ہے۔اب نیچے سے ایک اور شخص اوپر چڑھتا ہے اور چڑھتے چڑھتے وہ اس جگہ تو نہیں پہنچ سکتا مگر دس گز ورے رہ جاتا ہے۔اس کا دس گزورے مقام حاصل کر لینے کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ دوسرا شخص پہاڑی کے آخری اور سب سے بلند مقام پر کھڑا نہیں ہوا۔پس ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اس معنی میں جس معنی میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہمارے محبوب اور پیارے ہیں آخری نبی سمجھنا چاہیے لیکن بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی کے باوجود کوئی شخص پہلے آسمان پر بھی نہیں جاسکتا۔بعض کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ دوسرے آسمان پر بھی کوئی نہیں جاسکتا۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں تیسرے آسمان پر بھی کوئی نہیں جاسکتا کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ چوتھے اور پانچویں آسمان پر بھی کوئی نہیں جاسکتا۔اسی طرح چھٹے اور ساتویں آسمان تک بھی کوئی نہیں جاسکتا حالانکہ اگر آپ کی امت میں سے کوئی شخص حضرت آدم کا رتبہ اور آپ کی رفعت حاصل کرلے تو مقام محمدیت پر اس کا کیا فرق پڑا وہ تو چھ سات آسمان آپ سے نیچے ہے۔اسی طرح اگر کوئی آدمی ساتویں آسمان تک پہنچ جاتا ہے (جس کی حدیث میں بھی خوشخبری دی گئی ہے ) تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔اگر حضرت ابرہیم علیہ السلام کے مقام تک پہنچنے سے ختم نبوت پر اثر پڑتا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وجود یہ اثر ڈال چکا ہے۔کسی اور کو رخنہ ڈالنے کی ضرورت نہیں لیکن فی الواقعہ یہ امر رخنہ نہیں ڈالتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا ثمرہ، آپ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ ایک ایثار پیشہ قوم تیار ہوگئی جسے ابراہیم علیہ السلام نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے تیار کیا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مقام پر اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے کس چیز پر قربان کرنے کے لئے؟ خدا نے فرمایا تھا میرے عرش پر، میرے عرش کی رفعتوں کے حصول کے بعد میری دائیں طرف بیٹھنے والا تیری نسل میں پیدا ہونے والا ہے۔اس فخر پر ( جو تجھے نصیب ہورہا ہے کہ وہ تیری نسل میں پیدا ہو گا ) اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اپنی نسل کو اس ممتاز اور منفرد شخصیت پر قربان کر دو۔گو اس کی تعبیر کچھ اور تھی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام ظاہری طور