انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 365
تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۶۵ سورة النجم کہ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلند سے بلند مقام حاصل ہو سکتا ہے تو تمہیں بھی بلند درجہ کیوں نہیں حاصل ہو سکتا۔تم بھی خدا کی راہ میں مخلصانہ کوششیں کرو، سچی قربانیاں دور حقیقی مجاہدہ اختیار کرو، جذ بہ فدائیت اور عاشقانہ ایثار کے نمونے پیش کر و خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرنے لگ جائے گا تم بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کو حاصل کر لو گے۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۰۶،۸۰۵) آیت ۱۱ تا ۱۹ فَاَوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا أَوْلى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى۔افترُونَهُ عَلَى مَا يَرَى وَلَقَدْ رَاهُ نَزَلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاوَى إِذْ يَغْشَى السّدُرَةَ مَا مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكُبرى۔تاہم وہ بنیادی حقیقت جو معراج کی رات نوع انسان کو دکھائی گئی وہ کچھ اور بھی بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مقام محمد یت عرش رب کریم پر ہے اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کوئی شخص روحانی رفعتوں کو حاصل کرتے کرتے ساتویں آسمان تک پہنچ جائے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلو میں جگہ پائے تب بھی آپ کے آخری نبی ہونے میں کوئی خلل نہیں پڑتا کیونکہ آپ کا مقام تو بہت بلند ہے۔آپ آخری مقام یعنی مقام محمدیت پر فائز ہیں اور یہ یہ مقام ہے جس کے بعد کوئی اور روحانی مقام نہیں ہے۔عرش رب کریم کے بعد تو کوئی اور چیز ہوہی نہیں سکتی۔آپ اس آخری مقام پر کھڑے ہیں جہاں تک کسی کا پہنچنا ہی ناممکن ہے کسی کا آگے بڑھنا شرعاً ناممکن ہے۔کسی کا آگے بڑھنا انسانی فطرت کے خلاف ہے کیونکہ فطرت کا نچوڑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کا مقام مقام محمدیت ہے عرش رب کریم ہے۔اگر کوئی امتی آپ کی متابعت میں ساتویں آسمان پر بھی پہنچ گیا تو وہ ختم نبوت میں کیسے خلل انداز ہو گیا۔ختم نبوت کا مقام ساتواں آسمان نہیں ہے بلکہ اس سے بہت بلند بہت پرے ہے اور ختم نبوت یعنی مقام محمدیت کے پرے کوئی چیز نہیں ہے۔عرش رب کریم کے بعد تو کوئی اور مقام نہیں ہے وہاں تک کسی کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نہ ہی اس