انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 364

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۳۶۴ سورة النجم ہوا اور دنیا کی ہر چیز کو اس نے اپنے کام پر لگایا اور اپنے فائدہ کے لئے اُسے استعمال کیا۔در اصل بشر اس مٹی کی تخلیق کی انتہا اور روحانی تخلیق کی ابتداء ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے سیر روحانی شروع ہوتی ہے۔پھر آگے جتنی جتنی کسی میں ہمت ہوتی ہے وہ اس کے مطابق روحانی رفعتوں کو حاصل کرتا چلا جاتا ہے البتہ بشریت سے پہلے روحانی رفعتوں کے حصول کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔بشریت کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد ہی انسانی مخلوق اللہ تعالیٰ کا قرب اور لقا کا مقام حاصل کر سکتی ہے۔پس بشریت کے مقام سے سیر روحانی کا آغاز ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام احسن تقویم رکھا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے رسول تم دنیا میں اعلان کر دو اور اس عظیم الشان اعلان پر مشتمل ان آیات إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کو بشریت کے کمال کے ذکر سے شروع کر کے آگے سیر روحانی پر ختم کیا۔اب ایک ایسے فرد واحد نے خدائی حکم کے ماتحت یہ اعلان کیا کہ میں تم جیسا ہی بشر ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کے قریب تر ہوا جیسا کہ خود قرآن کریم کی یہ آیہ کریمہ ہے۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی اس حقیقت کی مظہر ہے اور اس سے زیادہ قرب کسی اور فرد بشر کے لئے حاصل کرنا تو کیا اُس جتنا بھی حصول ممکن نہیں چنانچہ آپ کی علوشان پر وہ حدیث قدسی بھی روشنی ڈالتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک یعنی اے رسول ! اگر تیرا وجود پیدانہ کرنا ہوتا، اگر تجھے دنیا کے لئے نمونہ نہ بنانا ہوتا تو میں مخلوق ہی پیدا نہ کرتا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں تمہارے جیسا انسان ہوں، جہاں تک انسانی عزت، شرف اور مرتبہ کا سوال ہے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جس طرح میں احسن تقویم یعنی بشریت کے لحاظ سے مٹی کا ایک پتلا ہوں اسی طرح تم بھی مٹی کے پتلے ہو، جس طرح میں اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہوں اسی طرح تم بھی اشرف المخلوقات کے فرد ہو جس طرح میں سیر روحانی میں بلند سے بلند درجات پاسکتا ہوں اسی طرح تم بھی بلند سے بلند درجے حاصل کر سکتے ہو اور یہ کہہ کر ایک طرف دنیا میں انسانی عزت اور شرف کو قائم کیا اور دوسری طرف ہر فرد بشر کو اس طرف بھی متوجہ کیا