انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 361
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۳۶۱ سورة الطور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطور آیت ۴۹ وَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ پانچواں تقاضا اللہ تعالیٰ کی عبادت کا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے یہ ہے کہ اس کے حکم کو ہم قائم کرنے والے ہوں اور اوامرو نواہی کی نگرانی کرنے والے ہوں کہ ہمارے ماحول میں ہمارے نفسوں سمیت خدا کے حکم اور امر کے خلاف کوئی نہ جائے اور اس نے ہماری روحانی اور جسمانی ترقیات کے لئے جو پابندیاں ہم پر لگائی ہیں ان کا احترام کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں نفسانی خواہشات اور ارادوں کو کچھ نہ سمجھا جائے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کوئی دوسری ایجنسی، کوئی دوسرا گروہ یا جماعت اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اپنے اثر ورسوخ کے نتیجہ میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عبادت کے اس تقاضا کو پورا کرو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جاؤ گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ اصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ باعيننا جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی پر ثبات قدم دکھاتا ہے اور استقلال اور استقامت کے ساتھ ان پر قائم ہو جاتا ہے اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا خیال نہیں رکھتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں آسکتا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۵۸۲)