انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 358
۳۵۸ سورة الذاريات تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث آسمانوں کی بلندیوں کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی امت مسلمہ کو مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کہ جب تم میں سے کوئی عاجزی، انکساری اور تواضع کی راہوں کو اختیار کرے گا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ( كنز العمال جلد ۲ صفحه ۲۵) ساتویں آسمان کی بلندیاں اسے حاصل ہو جائیں گی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۰۰) انسانی ضروریات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک وہ قسم ہے جس میں کائنات کی ہر شے اس کے ساتھ شامل ہے اور اس قسم کی ضرورتوں کے لئے مانگنے کی حاجت نہیں مثلاً دل کی دھڑکن ہے۔زندگی کے ساتھ ضروری ہے کہ دل اپنی صحت مند حرکت کے ساتھ دھڑکتا رہے۔تو کہیں ہمیں یہ دعا نہیں سکھائی گئی کہ اے اللہ! ہمارا دل اپنی صحت مند حرکت کے ساتھ دھڑکتا رہے۔صحت کی دعا سکھائی لیکن جو ضرورت دل کو تھی دل کو دعا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔یہ چیز میں اس وقت واضح کرنا چاہتا ہوں۔آنکھ کو اپنے دیکھنے کے لئے کسی دعا کی حاجت نہیں تھی اس کی حاجت اللہ تعالیٰ بغیر دعا کے پوری کر رہا ہے۔اسی طرح انسان کے جسم کا ہر ذرہ جو ہے اس کی وہ ضرورت جو دوسری کائنات کی مخلوقات میں مشترک ہے وہ اللہ تعالیٰ دے رہا ہے اور اس کے لئے انسانی تدبیر ایک اور رنگ میں ظاہر ہوتی ہے جس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا لیکن انسان کو انسان کے ناطے، انسان جس غرض اور مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے ہر چیز جس کی اسے ضرورت ہے اس ہر چیز کے لئے اسے دعا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اس لئے کہ انسان کو بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے پیدا کیا گیا کہ وہ اس کا بندہ بنے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا۔عبد بننے کے لئے صرف انسان کو پیدا کیا گیا۔اس کا ئنات کی بے شمار مخلوق میں سے کسی اور چیز کو عبد بننے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔ان کی کیفیت يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل : ۵۱) خدا تعالیٰ حکم دیتا چلا جاتا ہے وہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ان کو نافرمانی کی طاقت بھی نہیں ملی۔اس کا احساس بھی نہیں کیونکہ وہ کرتے ہی نہیں لیکن چونکہ انسان ایک بلند مقصد کے لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا عبد بنے اور اس کے پیار کو حاصل کرے اس لئے صرف انسان کے ساتھ یہ لگایا کہ دعا کرو، ملے گا۔دعا نہیں کرو گے نہیں ملے گا یعنی عبد بننے کے لئے اپنی انسانی زندگی میں کامیابی کے لئے، خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے،