انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 353

۳۵۳ سورة الذاريات تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث کی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کی جاتی ہیں اس وقت انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کی خاطر اور اس کی رضا کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرتا ہے۔اور فی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ - لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کے مطابق یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اس میں صرف ہم ہی حصہ دار نہیں بلکہ ہمارے سارے بھائی اس میں برابر کے شریک اور حصہ دار ہیں لیکن وہ لوگ اپنی فطرت کی اس صلاحیت کا صحیح استعمال کرنے کی بجائے حرص اور شاخ سے کام لے کر اور بخل سے کام لے کر اپنے آپ کو نیکیوں سے محروم کر دیتے ہیں اس کی مثالیں آپ کو ہر جگہ مل جائیں گی لیکن اپنی بھیانک شکل میں۔اس کی مثالیں ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو مومن نہیں لیکن جو لوگ کمزور ایمان والے ہیں یا جو ابھی زیر تربیت ہیں ان میں بھی آپ کو نظر آتی ہیں۔ذراسی تکلیف پہنچی اور شور مچادیا، جزع فزع شروع کر دی۔کسی کی خاطر تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے یہ پہلو إِذَا مَسَّهُ الشَّرُ جَزُوعًا میں بھی آ جاتا ہے اور جب خدا تعالیٰ نے انہیں دیا تو ان برکات میں ، ان نعمتوں میں ، ان اموال میں ، جو خدا تعالیٰ نے ان کو دیئے اور سب کچھ دیا اور اسی نے دیا۔اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اور شریک نہیں ہے، سارا ہم ہی سمیٹ کر رکھیں، ہمارے پاس جو کچھ آیا ہے اس میں کسی اور کا حصہ نہ ہو۔قرآن کریم نے پہلوں کی بہت سی مثالیں دے کر بھی ہمیں سمجھایا ہے لیکن یہاں پر اصولی طور پر بحث کی گئی ہے، کوئی مثال نہیں دی گئی۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۴۷۶ ،۴۷۷) آیت ۵۶ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ کہ اے خدا کے رسول ! ( اور پھر وہ جو اس کے قائم مقامی میں ذمہ داری کے عہدے پر کھڑے کئے جاتے ہیں ) تو مومنوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتارہ کیونکہ یہ یاددلا نا مومنوں کونفع بخشتا ہے۔اس آیہ کریمہ میں ایک تو باوجود غفلت کے مومن کی عزت کو یہ کہہ کر قائم کیا ہے کہ اگر کبھی وہ اپنی کسی ذمہ داری کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تو اس کے یہ معنی نہیں لئے جانے چاہئیں کہ ایمان میں کمزوری پیدا ہو گئی ہے بلکہ انسانی فطرت میں ہی یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر بار بار اس کے سامنے اس کی ذمہ داریاں نہ لائی جائیں تو وہ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جو بار بار اس کے سامنے آتی ہیں