انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 352 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 352

تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۵۲ سورة الذاريات تھے اور صرف آپ ہی خیال رکھ سکتے تھے مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقُ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُوم کہ کچھ امیر اور دولتمند لوگ ایسے بھی ہیں جن کے سارے مال ان کے نہیں بلکہ کسی اور کا حق مارا گیا ہے جس نے ان کے اموال میں اضافہ کیا ہے اس لئے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَ المحروم محروم اور سائل کا حق ان کے مالوں کے اندر ہے وہ نکالنا چاہیے اور حق دار کو حق پہنچنا چاہیے۔قرآن کریم کی ایک آیت میں اتنا انذار ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حشر کے دن ایک گروہ ایسا ہوگا کہ میں فرشتوں سے کہوں گا۔جاؤ اور اس گروہ کو جہنم میں جھونک دو اور وہاں جہنم میں جھونکنے کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ایک تو اس لئے کہ وسیع حکمتوں والے رب پر یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے اور دوسری وجہ یہ کہ لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی رغبت نہیں دلاتے تھے اور نہ خود ان کو کھلاتے تھے۔لوگ بھوکے مر رہے تھے اور یہ اُن کا خیال نہیں رکھتے تھے اور حکمتوں سے پر یہ ایک Universe ایک عالمین پیدا کیا گیا تھا اور یہ اس پر غور نہیں کرتے تھے۔پس یہاں صرف دو وجہیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ وسیع حکمتوں والے رب پر ایمان نہیں لاتے تھے اور دوسرے بھوکوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اس لئے انہیں جہنم میں جا کر جھونک دو۔پس جس مسلمان نے جہنم سے بچنا ہو یا جہنم سے بچا ہوا ہو تو وہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کرتا اور اس کی ذات وصفات کی معرفت رکھتا ہے اور جس حد تک اس کے پاس مال ہے وہ اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے بندوں کا خیال رکھتا ہے اور کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔بھوک دور کرنے کی ذمہ واری تو اللہ تعالیٰ نے لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کھیتیاں پیدا کرتے ہو؟ تم نہیں پیدا کرتے ، میں پیدا کرتا ہوں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک فاحشہ عورت نے ایک جانور کے اوپر رحم کر کے پیاس کے وقت میں پانی دیا تھا۔اس نیکی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُس فاحشہ عورت کے گناہ معاف کر دیئے اور اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے۔(خطابات ناصر جلد اول صفحه ۴۹۶) إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا جب ان کو تکلیف پہنچتی ہے تو بے صبری سے کام لیتے ہیں اور بے صبرے ہو جاتے ہیں۔وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا جب کوئی بھلائی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچتی ہے، ان کے اموال میں خدا تعالیٰ برکت ڈالتا ہے، ان کی تجارتیں نفع مند ثابت ہوتی ہیں، ان کی کھیتیاں زیادہ پیداوار دینی شروع کر دیتی ہیں، ان کے باغات کو اچھا اور زیادہ پھل لگتا ہے، اس دنیا میں ہزاروں قسم