انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 351
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۵۱ سورة الذاريات کہا یہ بھی غذا کا حصہ ہے۔جس کو انہوں نے Minerals کہا یعنی جو معد نیات ہیں۔ان کو Trace element بھی بعض کو ان میں سے بہت تھوڑا چاہیے لیکن انسانی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔خدا کہتا ہے کہ ہر شخص کو دو۔تو میں نے یہ کہا کہ میرے نزدیک وَفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم نے بڑا عظیم اعلان کیا ہے۔بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے کہا میں تمہیں لاوارث نہیں چھوڑوں گا۔قرآن کریم نے کہا تمہارے جو سیاسی بڑے ہیں وہ تمہارا خیال نہ رکھیں یا رکھیں۔تمہارے دوسرے تمہارے اپنے بزرگ جو ہیں خاندانی یا قبیلے کے وہ اس طرف توجہ دیں نہ دیں، پر میں تمہارا پیدا کرنے والا رب تمہیں ایک مقصد کے لئے میں نے پیدا کیا۔جو بھی تمہیں ملا وہ مجھ سے ملا اور بنیادی طور پر میں نے تمہیں چار قسم کی عظیم صلاحیتیں اور قابلیتیں دیں۔ان کی نشو نما کے میں نے سامان پیدا کئے۔میں یہ سامان پیدا کروں گا کہ سارے انسان اسلام کی حسین تعلیم میں ، اسلام کے ٹھنڈے سایہ میں جمع ہو کر ہر شخص کو پہلے اس کا حق مل جائے۔اس کے بعد پھر جن کو ہم نے ایسی صلاحیتیں دی ہیں کہ مثلاً وہ زیادہ کما لیں تو پھر ہم کہیں گے جب وہ اپنے حقوق ادا کر چکے ہوں گے اور ان کے پاس مال بچے گا اپنی مرضی سے اب کھا لولیکن یہ دیکھنا کہ اپنی مرضی سے اتنا نہ کھالینا کہ رات کو ہماری عبادت نہ کر سکو۔دن کے وقت بھی اونگھتے ہی رہو۔ہماری طرف توجہ نہ کرو۔اپنے جو ہر وقت کے حقوق ادا کرنے ہیں وہ تم ادانہ کر سکو۔( خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۲۴۳ تا۲۵۰) جس شخص کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کوملنی چاہیے خدا کہتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ قرآن کریم کی یہ آیت ہے اور جب تک ہر فرد واحد کو اس دنیا میں اس کی جائز ضرورت جو میں نے بتایا ہے کہ چار قسم کی قوتیں اور استعداد یں ہیں۔ان کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس کی جائز ضرورت ہے اگر ایک آدمی بھی دنیا میں ایسا ہے جس کی جائز ضرورت پوری نہیں ہو رہی تو خدا کہتا ہے کہ کسی اور کے مال میں اس کا حصہ ہے جو اس کو ادا نہیں ہوا اور غصب کیا گیا ہے اس کا حصہ۔کیونکہ پیدا کرنے والے نے پیدا کی ، یورپ اور امریکہ نے تو دنیا کی دولت نہیں پیدا کی، پیدا تو خدا نے کی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کا خیال رکھتے (خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۳۲۱)