انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 337
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۷ سورة الحجرات اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ فرمایا ہے قُلُ اتَّعَلَّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر نفس اپنے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہے مثلاً انسانی خیالات ہیں۔بہت سے انسانی خیالات صحیح ہوتے ہیں۔انسان کے دل میں جوش اور قربانی کا جذ بہ بھی پیدا ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ شبہ والے خیالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔کمزوری والے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ڈر والے بھی پیدا ہوتے ہیں۔عملاً بعض دفعہ انسان ڈرتا نہیں لیکن اس کے دماغ میں آتا ہے اب کیا ہوگا۔کئی لوگوں کو یہ خیال آ جاتا ہے اب کیا ہوگا لیکن مومن اس کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔وہ خود تو جانتا ہے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا تھا۔انسان کے دل کے اندر بعض دفعہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے خواہ معمولی سا ہوتا ہے لیکن وہ کسی کو بتا تا نہیں۔وہ اپنے ایمان پر پختگی سے قائم رہتا ہے لیکن وسوسہ تو پیدا ہوتا ہے۔مومن اس کو جھٹک دیتا ہے۔دل سے نکال کر پرے پھینک دیتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کے دل میں یہ کیفیت پیدا ہوئی تھی جس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے نجات حاصل کر لی۔انسان سے بعض دفعہ بہت سی کمزوریاں سرزد ہو جاتی ہیں اور وہ ظاہر نہیں ہوتیں تو کوئی شخص بھی دوسرے کے متعلق علم نہیں رکھتا جتنا خود انسان اپنے متعلق علم رکھتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سمجھدار آدمی انکار نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس کے کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے العَلِمُونَ اللهَ بدِینکم مگر جہاں تک خدا کا سوال ہے کیا تم خدا کو بتاؤ گے اپنے دین کے متعلق کہ تم بڑے پکے مسلمان اور دیندار ہو؟ گودوسرے لوگوں کی نسبت تمہارا اپنی ذات کے متعلق علم زیادہ ہے اس لحاظ سے تم اعلم ہو۔اپنے نفوس کو زیادہ جاننے والے ہولیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے تم نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کی نسبت تم اپنے نفس کو زیادہ جانتے ہو۔تمہارے ظاہر و باطن کو اللہ تم سے بھی زیادہ جانتا ہے۔میں نے ایک دفعہ خطبہ دیا تھا میں سمجھتا ہوں اخبار الفضل اسے دوبارہ شائع کرے۔میں نے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے حوالے سے بتایا تھا کہ کس طرح ہر آسمان پر ایسے فرشتے ہیں جن کا تعلق لوگوں کو مثلاً پہلے آسمان تک لے جا کر خدا کے حضور پیش کرنا ہوتا ہے۔بعض لوگوں کے متعلق ایسے فرشتوں کو بھی غلط نہی ہوتی ہے کہ ان کے بڑے اچھے اعمال ہیں لیکن خدا تعالیٰ