انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 336
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نہ اس کے عمل میں کوئی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔۳۳۶ سورة الحجرات پھر فرمایا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ مومن یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے اور اس کی راہ میں ہر چیز کو قربان کر دیتے ہیں یا اسی کی اجازت سے استعمال کرتے ہیں اور ہر وقت قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ یہ قربانی ہر وقت ہر انسان سے تو نہیں مانگتا لیکن کبھی مانگتا بھی ہے لیکن جب مومن خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعد پھر جتنا ہو سکتا ہے وہ خدا کی راہ میں دے دیتے ہیں لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ اگر سب کچھ چلا جائے گا تب بھی خدا کو نہیں چھوڑیں گے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہیں چھٹے گا۔ہم نے قادیان کو چھوڑا۔اس وقت ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ ہم دیکھتے تھے ہمارے دین کی راہوں میں اس قسم کی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں کہ ہم اس جگہ مرکزیت کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو نباہ نہیں سکتے اس لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جیسا کہ پہلے بتایا بھی گیا تھا ہجرت کی اور ربوہ میں آبسے۔اُسوۂ نبوی بھی یہی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے متبعین کے دین کی حفاظت کے لئے مکہ جیسے شہر کو چھوڑ دیا تھا جہاں خانہ کعبہ تھا جو ساری دنیا کو ایک کرنے کے لحاظ سے مرکزی نقطہ تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے لیکن اپنے دین کو نہیں چھوڑا آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی ساری جائیدادیں، ساری رشتہ داریاں اور سارے تعلقات اور ایسوسی ایشنز کو چھوڑ دیا اور آرام سے مدینہ چلے گئے اور جب مکہ کو چھوڑا تو پھر دنیوی ناطہ سے چھوڑ ہی دیا۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو مسلمان اپنی جائیدادیں واپس لے سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں لیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس مدینہ چلے گئے۔اگر حالات ایسے ہو جائیں تو اس اُسوہ پر بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ ایمان کے معاملہ میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہوتا۔مومن کو بصیرت حاصل ہوتی ہے اور ثبات حاصل ہوتا ہے اور استقامت حاصل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے فرشتوں کی حمایت اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔مومن اپنے ایمان پر ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ دنیا کے زلزلے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں پیدا کر سکتے ، ان کو ہلا نہیں سکتے۔