انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 335
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۵ سورة الحجرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ایمان کا دوسرا حصہ دلی یقین سے تعلق رکھتا ہے یعنی دل میں ایمان کا پختگی کے ساتھ گڑا ہوا ہونا۔شیطان انسانی دل میں بھی وسوسہ ڈالتا ہے وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے اور ایمان کی جڑوں کو جو انسان کے دل اور دماغ میں ہوتی ہیں اُن کو ہلا دے۔عمل میں کمزوری پیدا ہو جائے اور دل میں شبہات پیدا ہو جائیں۔اس میں وہ بعض دفعہ کامیاب بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ ارتداد کے وقت میں ہوا۔یہ ایک ایسی مثال ہے جو ایمان کے تینوں حصوں پر حاوی ہے۔پس ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہدایت کے حصول کے بعد انسان دین کے میدان میں جتنا کچھ حاصل کرتا ہے اس کے مطابق جب وہ عمل کرتا ہے تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرۃ:۳) کی رو سے گویا وہ تقویٰ کی راہوں کو سمجھتا اور ان پر کار بند ہوتا ہے۔قرآن کریم اس کے لئے ہدایت اور تقویٰ میں اور زیادہ ترقی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔انسان کے دل پر جب شیطان کا یہ وار ہوتا ہے تو انسان پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی حقیر کوششوں کو قبول کرتا ہے اور اسے بصیرت عطا کرتا ہے۔اسے عزم دیتا ہے۔اس کو ثبات قدم عطا کرتا ہے۔ایمان اس کے دل میں اتنی پختگی کے ساتھ گڑ جاتا ہے کہ شیطان کے حملے ناکام ہو جاتے ہیں۔ایمان کا تیسرا حصہ انسانی عمل سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (الانعام: ۵۱) کے مطابق جو کام کر کے دکھا دیا ہے تم اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اس کے اوپر بھی شیطان حملہ کرتا ہے۔کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھلا دیتا ہے۔کبھی انسان کے عمل میں کمزوری پیدا کر دیتا ہے۔کبھی دنیا کی لالچ کو نیکیوں کی راہ میں حائل کر دیتا ہے۔کبھی اولاد کی محبت دین کے راستوں کو تنگ کر دیتی ہے اور دین سے فرار کی راہوں کو کشادہ کر دیتی ہے۔بہر حال بے شمار طریقے ہیں جو شیطان استعمال کرتا ہے لیکن مومن تو خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرتا ہے۔وہ راہیں ہزار ہوں یا لاکھوں جن سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے مومن اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اُسے شکست دیتا ہے اور ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔پھر اس میں یہ جرات پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمان ہونے کا اقرار کرے۔اس کے دل میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔نہ اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے اور