انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 327
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۲۷ سورة الحجرات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحجرات b آیت ۸ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الاَمرِ لَعَنِتُمْ وَلَكِنَّ اللهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكَفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَبِكَ هُمُ الرَّشِدُونَ قرآن کریم نے تقویٰ کے اس معنی کو مختلف مقامات پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلكِنَّ اللهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَبِكَ هُمُ الرُّشِدُونَ۔یہاں بھی تقویٰ کے معنی ایک نہایت حسین پیرا یہ میں بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ایمان کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا کی وَ زَيَّنَه في قُلُوبِكُم اور تمہارے دلوں کو اس نے اپنے فضل سے اس حقیقت تک پہنچادیا کہ حقیقی روحانی خوبصورتی تقوی کے بغیر ممکن نہیں اور نہ روحانی بدصورتی سے تقویٰ کے بغیر بچا جاسکتا ہے۔تو ایک طرف تقویٰ ہر حکم الہی کی بجا آوری میں بشاشت پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف ہر اس چیز سے نفرت پیدا کرتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکالنے والی اور اس کی ناراضگی کو مول لینے والی ہو۔یہاں تقویٰ کے متعلق ہی ایک لطیف مضمون بیان ہوا ہے جس کی تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا بہر حال یہ اشارہ کافی ہے۔اسی وجہ سے سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی فرمایا تھا ھدی للمتقین اور سورہ بقرہ میں ایک دوسری جگہ آگے جا کے آیت ۱۹۰ میں یہ فرمایا وَلَكِنَّ الْبِرِّ مَنِ اتَّقَى - وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں کو اختیار کرتا ہے یہاں اللہ