انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 323

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۲۳ سورة الفتح کئے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قول و فعل اور نمونہ سے اس عظیم شریعت کی مدد کرو گے تو بشارتوں کو پالو گے اور خدا کے پیار کو حاصل کرلو گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس قدر بشارتیں دی ہیں کہ پہلے انبیاء نے اس کا سواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی بشارتیں نہیں دیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بشارتیں تمہیں اس طرح نہیں ملیں گی جس طرح ایک آم کے درخت کے مالک کو ٹپکے کا آم پکنے کے بعد خود گر کر مل جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ تمہیں اس کے لئے اسی طرح قربانیاں دینی پڑیں گی جس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقصد کے حصول کے لئے بے شمار قربانیاں دی اور اس راہ میں قسم قسم کے دکھ اور تکلیفیں اٹھائی تھیں۔آپ کے صحابہ نے بھی آپ سے عشق و وفا کا اعلیٰ و عمدہ نمونہ دکھایا اور خدا کی راہ میں بڑی قربانیاں دیں۔۔۔۔۔۔۔تیسری بات جو پہلی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کے طور پر بیان ہوئی ہے وہ آپ کا نذیر ہونا ہے۔آپ کی صفت کے مقابلہ میں امت مسلمہ پر صبح و شام تسبیح کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔تسبیح کے معنے ایک تو تنزیہ و تمجید کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نقص، عیب اور کمزوری سے پاک سمجھنا اس کے دوسرے معنے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے مفردات امام راغب کی رو سے الْمَر السَّرِيعُ فِي عِبَادَةِ اللهِ تَعَالَى وَجُعِلَ ذَالِكَ فِي فِعْلِ الْخَيْرِ گویا عبادت اللہ کی طرف تیزی سے دوڑ کر اور سرعت کے ساتھ جانا اور خیر اور نیکی بجالا نا تسبیح کے معنوں میں شامل ہے نذیر کی صفت میں ڈرانے کا ذکر ہے یعنی بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے یا اقوال شنیعہ کے نتیجہ میں یا منافقانہ اور کافرانہ نیتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بن جاتے ہیں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ جب تم پر خدا کا غضب بھڑکتا ہے تو وہ ایسا سخت ہوتا ہے کہ انسان ایک لحظہ کے لئے بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں نذیر ہیں کہ آپ خدا کا غضب بھڑ کنے سے پہلے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہیں۔ان کو ہوشیار کرتے ہیں پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بنیادی صفت نذیر ہے۔اس صفت کے مقابل میں مسلمانوں پر تسبیح کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ان سے کہا گیا کہ وہ لوگ جو خدا سے دور جا پڑے ہیں اور اپنی