انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 322

تفسیر حضرت خلیلة امسح الثالث ۳۲۲ سورة الفتح ہوں ، لوگوں کو بداعمالیوں سے ڈرایا جائے تو یہ امر تمہارے لئے نیکیوں کے بجالانے میں سرعت اور تیزی پیدا کر دے۔پس یہ تین ذمہ داریاں ہیں جنہیں میں نے مختصراً اور کچھ تھوڑے سے موازنہ کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔شاھد کی صفت کے مقابلہ میں ایمان باللہ وایمان برسول کہا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے تعلیمی لحاظ سے صفات باری کا جو بیان قرآن عظیم میں ہے وہ انسان کی تاریخ میں ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتا۔اس لحاظ سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم معرفت صفات وشئونِ باری کے لئے قرآن کریم پر غور کریں اور صفات باری کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ صفات باری کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بداعمالیاں سرزد ہوتی ہیں جو توحید سے دور لے جانے والی اور شرک کے قریب کرنے والی ہیں۔گویا پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ قرآن کریم نے جس رنگ میں صفات باری کو بیان کیا ہے اس رنگ میں ان کا عرفان حاصل کرنا چاہیے۔چنانچہ آج مہدی معہود علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ صفات باری کا جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان فرمایا ہے اور جو تفسیر قرآن عظیم ہے ان صفات کے بیان کو پڑھنا اور ان کو سمجھنا اور ان کو یاد رکھنا ہمارا فرض ہے گویا ہمیں عرفان صفات باری حاصل ہونا چاہیے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت تھی مبشر ہونے کی۔اس صفت کے مقابلہ میں تُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوہ کی رو سے تعزیر اور توقیر کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے المنجد میں عذر کے معنے ہیں النُّصْرَةُ مَعَ التَّعْظِیمِ یعنی کسی ہستی کی عظمت کے احساس کے ساتھ اس کی اعانت اور مدد کرنا۔تعذروة میں ضمیر کا مرجع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے لیکن چونکہ آپ کی ذات کو تو کسی انسان کی عزت و تکریم کی ضرورت نہیں کیونکہ پہلے انبیاء کی زبان سے بھی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بھی یہ کہلوایا گیا ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ احکام الہی کے اجراء میں اپنے فعل اور نمونہ سے مدد کرو۔گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد ہے اس کو کامیاب کرنے کے لئے عمل اور نمونہ کے ساتھ کوشش کرنا۔اسی طرح تو قیر کے معنے عظم اور بجل (المنجد : زیر لفظ بجل) کے