انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 321
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲۱ سورة الفتح اس لئے فرمایا تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان لاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاؤ۔اس بات پر یقین رکھو کہ آپ کے اسوۂ حسنہ پر چلنا نوع انسانی کے لئے ضروری ہے گویا آپ کی شاہد کی صفت کے مقابلہ پر عقلاً بھی اور شرعاً بھی انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے اور آپ کے اسوہ حسنہ پر چل کر سعادت دارین پائے۔پھر چونکہ آپ مبشر ہیں اس لحاظ سے انسان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ ان الفاظ میں مضمر ہے۔وَتُعَزِّرُوهُ وَ تُوَقِّرُوهُ فرما یا آپ کی تعظیم کو دیکھ کر ، آپ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے آپ کے مشن کی کامیابی کے لئے کام کر و اسلام کی مدد کرو اور اس کی نصرت کرو آپ کی عظمت کا اقرار محض زبان سے نہیں کرنا بلکہ ساتھ عمل بھی کرنا ہے گویا اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تم اپنے قول اور عمل سے اس عظیم شریعت کی مدد کرو گے تو خدا کے پیار کو پالو گے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرما یا کہ تم خالی ایمان لے آؤ گے بلکہ فرمایا ہے کہ مبشرا کی حیثیت سے آپ کے ذریعہ دنیا کو جو بشارتیں دی گئی ہیں ان پر بھی یقین رکھو گے اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے قول اور فعل کو آپ کے اسوہ حسنہ کے مطابق بنا لو گے تو وہ بشارتیں تمہیں مل جائیں گی جو انسانیت کے محسن اعظم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو دی گئی ہیں۔آپ کی تیسری صفت نذیر بیان ہوئی تھی اس کے مقابلہ میں انسان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً و اصیلا کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔تسبیح کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی کمزوری اور نقص سے منزہ سمجھنا گویا اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے دوسرے معنے امام راغب نے مفردات میں یہ بیان کئے ہیں الْمَر السَّرِيعُ في عِبَادَةِ اللهِ تَعَالى۔۔۔عَامَّا فِي الْعِبَادَاتِ قَوْلًا كَانَ اَوْ فِعْلًا اَوْ نِيَّةٌ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں سرعت پیدا کرنا گویا تسبیح کا لفظ قولی و فعلی اور نیت کی عبادات کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور ان عبادات میں سرعت پیدا کرنا تسبیح ہے۔غرض نذیر کے مقابلہ میں وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَاصِیلا میں بتایا کہ چونکہ بعض قسم کے افعال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اس لئے تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ جب انذار کے حالات پیدا