انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 317
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۱۷ سورة الفتح بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفتح آیت ۲،۱ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا خدا تعالیٰ کی چوتھی صفت مالک یوم الدین ہے اور یہ بھی اُم الصفات میں سے ہے۔اس کے متعلق بھی قرآن کریم نے دعویٰ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مالکیت یوم الدین کے کامل اور اتم مظہر ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی کئی آیات میں اس کا ذکر ہے۔اس وقت میں ایک آیت پڑھوں گا۔قرآن کریم نے کہا۔انا فتحنا لک فتحا مبینا اور اس فتح مبین اور فتح عظیم کی ایک بڑی زبر دست تجلی فتح مکہ کے موقع پر ظاہر ہوئی۔اس دن ایک مالک اور قادر کی حیثیت سے (اللہ تعالیٰ کے مظہر ہونے کی حیثیت سے اس میں کوئی شک نہیں) آپ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔عدل کرنے کے لئے بلکہ مالکیت کا جلوہ دکھانے کے لئے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھا۔وہ لوگ جنہوں نے مگی زندگی کے تیرہ سال آپ کو اور آپ کے متبعین کو انتہائی تکالیف اور دُکھ پہنچائے تھے اُن سے کہا بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اُنہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی توقع رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس وقت تک اہلِ مکہ یہ سمجھ چکے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔چنانچہ اس فتح عظیم کے دن جب کہ اہلِ مکہ کی قسمتوں کا فیصلہ ہو چکا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ جاؤ تمہیں معاف کیا اور معاف بھی کیا تو اس رنگ میں کیا کہ کہا میں تمہارے پاس نہیں ٹھہرتا کیونکہ اس سے میری اس صفت میں فرق آتا ہے۔آپ اور آپ کے صحابہ کی جائیدادیں آپ کے وہ مکانات اور حویلیاں جو مکہ اور اس کے گرد و نواح میں چھوڑی تھیں وہ آپ نے واپس نہیں