انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 315
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۱۵ سورة محمد پہاڑ اس کا نتیجہ نکل آتا ہے جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ پر بھی بتایا تھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب تحریک جدید کا اجراء کیا تو پہلے سال قریباً ستائیس ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا تھا اور دس سال کے بعد جو اثر اور نتیجہ پیدا ہوا اس کا دنیا میں وہ یہ تھا کہ دس سالہ اس حقیر کوشش کے نتیجہ میں وہ زمانہ آیا کہ ۴۵ ء سے ۶۶ ء تک قریباً ۲۱ سال میں قریباً تین کروڑ روپیہ غیر ملکوں کی آمد تحریک جدید کو ہوئی یعنی یہ قوم غیر ملکوں میں بھی پیدا ہونی شروع ہو گئی ( يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ) تو صرف مرکز میں ہی ایسی قوم پیدا نہیں ہوئی بلکہ ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا ایک نمونہ بنی نوع انسان کو دکھایا کہ دیکھو تم نے بخل سے کام لیا تمہیں کیا ملا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو قربان کیا دیکھو یہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے کیا وہ ایک بدلی ہوئی قوم نہیں ہے کیا یہ وہ قوم نہیں ہے جن کے اعمال کے نتائج کو دیکھ کر انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ قوم ہے اس کی پیدا کردہ جماعت ہے یہ وہ جماعت ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیر کم کہ وہ تم میں سے ہوں گے ، وہ تم میں ہوں گے لیکن وہ اپنے ایثار میں تم سے علیحدہ ہوں گے وہ اسلام کی ہی ایک جماعت ہو گی لیکن جہاں تک ان کی قربانیوں کا تعلق ہوگا جہاں تک ان کی قربانیوں کے پھل اور ثمرہ کا تعلق ہوگا جو آسمانی حکم کے نتیجہ میں پیدا ہو گا تم میں اور ان میں کوئی مماثلت نہیں ہوگی تو اس قوم کو جس نے اپنے لئے یہ روایت قائم کر لی ہے کہ ان کا قدم ہر میدان قربانی میں (انفاق فی سبیل اللہ کے میدان میں بھی آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے (خطبات ناصر جلد اول صفحه ۶۱۰ تا ۶۱۸ )