انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 313

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۱۳ سورة محمد کے معاملہ میں بخیل نہیں ہوں گے دوسرے بیچ کا زمانہ وہ ہزار سال کہ جن میں بخل کرنے والے بھی ہوں گےسخاوت کرنے والے بھی ہوں گے، وہ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے بھی ہوں گے اور خدا سے دور رہنے والے بھی موجود ہوں گے مگر اکثریت جو ہے وہ اس اعلیٰ مقام کو کھو چکی ہوگی اور ایک تنزل کے دور میں سے اسلام گزر رہا ہوگا تیسرے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی پیشگوئی ہے وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمُ اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہزار سالہ دور تنزل کے آخر پر جب مسلمانوں کی اکثریت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرنے والی ہوگی تتولوا ان پر صادق آ رہا ہو گا ایک اور قوم اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا جو ان جیسی نہیں ہوگی یعنی یہ تو انفاق سے گریز کرنے والے ہوں گے اور وہ جماعت احمد یہ انفاق کرنے کے بعد بھی یہ سمجھنے والے ہوں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے حضور کچھ بھی پیش نہیں کیا بالکل تضاد ہوگا دو قوموں کے کیریکٹر میں اور ان کی ذہنیت میں۔تفسیر روح البیان زیر سورۃ محمد آیت ۳۹ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہاں وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ میں جس قوم کا ذکر ہے یہ کون سی قوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اس وقت سلمان فارسی بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا یہ اور اس کی قوم اور پھر آگے وہ حدیث آتی ہے کہ اگر ثریا پر بھی ایمان چڑھ گیا ہوگا تو فارسی الاصل مسیح موعود دوہاں سے بھی ایمان کو لا کر قرآن کریم کے معانی اور اس کے معارف کو زمین پر قائم کرے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت کے مطابق بڑی وضاحت سے بتا دیا کہ جس قوم کا اس آیت میں ذکر ہے وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وه جماعت احمد یہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ اسلام پر انتہائی تنزل کا زمانہ آئے گا اور مسلمان کہلانے والے دین کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرنے لگ جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت اور اس وقت سے اب تک جو زمانہ گذرا ہے اس میں آپ تمام مسلمانوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں خواہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے رہنے والے ہوں خواہ وہ دوسرے ملکوں کے رہنے والے ہوں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اُمت مسلمہ کی انفاق فی سبیل اللہ کے لحاظ سے بالکل وہی حالت تھی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ وہ انفاق فی سبیل اللہ سے