انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 307
۳۰۷ سورة محمد تغییر حضرت علیلیه است الثالث علق اور غلبہ امت مسلمہ کے ہی مقدر میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے فرمایا وَ اللهُ مَعَكُمُ کہ ان کا ایک حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے اور جس کا حقیقی عاشقانہ اور عاجزانہ تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو اس کے نیک اعمال ، وہ اعمال جن کے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔جن اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا پہلے سے زیادہ حاصل ہوتی رہتی ہے اُن اعمال میں کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا ہر دوسرا جلوہ پہلے سے بڑھ کر حسین ، پہلے سے زیادہ عظیم ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے پس ہمارے مقام کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۵۳۳، ۵۳۴) وو 6 آیت ۳۷ تا ۳۹ إِنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لَهُوَ وَ اِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْلُكُمْ اَمْوَالَكُمْ إِنْ يَسْتَلكُبُوهَا فَيُحفكُمُ تَبْخَلُوا وَ يُخْرِجُ أَضْغَانَكُمْ فَانْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ ۚ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ ن نَفْسِهِ وَاللهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءِ وَ إِنْ تَتَوَلَّوا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غير كُم ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ ج اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جنہیں آسمان سے نور ملتا ہے اور عرفان عطا کیا جاتا ہے وہ جانتے ہیں کہ انما الحيوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لَهُوَ کہ دنیا اور اس کے اموال اور آرام اور اس کی آسائشیں باطل ہیں۔محض کھیل کا سامان ہیں جن کا کوئی اعتبار نہیں اور جن کو کوئی ثبات نہیں۔چند دن کی فانی لذات کے سوا کچھ بھی نہیں پھر یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو اس مقصد حیات سے پرے ہٹا دینے والی ہیں جس کی خاطر اس کے رب نے اسے پیدا کیا تھا۔وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا اس کے مقابل اگر تم اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لاؤ اور حقیقت کو سمجھنے لگو اور تم سے جو مطالبے کئے جاتے ہیں تم ان کو پورا کرو اور تقویٰ کی باریک راہوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کو ڈھونڈ و تو جو بطور قربانی تم سے لیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ يُؤْتِكُمْ أجُورَكُم تمہارے اجر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے (نہ کہ تمہارے کسی