انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 306

تفسیر حضرت علیله امسیح الثالث ۳۰۶ سورة محمد ہے۔اھتدی کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ جو اپنی عقل اور فراست سے کام لیتے ہیں اور فطرت انسانی میں اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی جو Urge اور شدید خواہش پائی جاتی ہے اس کے مطابق قرب کی راہوں کو تلاش کرتے ہیں اور علی وجہ البصیرت اس مقام پر قائم ہوتے ہیں کہ اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے وہ ہر وقت اور ہر آن اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہدایت کے نتیجہ کے نیک ہونے کے، بہترین کامیابیوں کے، رضا کی راہوں کو پالینے کے، اس کی رضا کو حاصل کر لینے کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں مزید نیکیوں کی توفیق بھی بخشتا ہے کیونکہ ہدایت کے معنی میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے مزید بڑی نیکیوں کی توفیق وہ عطا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ ایک مومن جب اپنی زندگی میں قرب کے بعض مقام حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید قرب کی راہیں اُسے دکھا دی جاتی ہیں پھر وہ مزید ترقیات کرتا ہے وَانهُم تَقُوبُهُمْ اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اپنے مقام قرب و ہدایت کے مطابق وہ معزز اور مکرم بن جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے فرما یا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقُكُمُ (الحجرات : (۱۴) اللہ تعالیٰ ان کے مناسب حال ان کی استعداد کے مطابق اور اپنی استعداد کو جس حد تک اُنہوں نے خدا کی راہ میں خرچ کیا اس کے مطابق، ان کا تقوی اپنی نگاہ میں، ان کی عزت انہیں عطا کر دیتا ہے۔اس آیہ کریمہ میں جو بہت سی باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں ہے اس کی زندگی کا ہر لمحہ اس کو مزید رفعتوں کی طرف لے جاتا ہے اگر وہ حقیقی اور مخلص مومن ہو اور اس کی زندگی کا ہر نیا سال اسے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب کر دیتا اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اسے زیادہ معزز بنا دیتا ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۵۵،۴۵۴) اُمت مسلمہ کو ان آیات میں ان بنیادی صداقتوں سے متعارف کرایا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ اگر امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے عملاً باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ان کے اعمال کا موعود نتیجہ نہیں نکلے گا اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے اور دوسرے یہ کہ دنیا جتنا چاہے زور لگا لے وہ امت مسلمہ پر ، اگر وہ امت اسلام پر حقیقی معنی میں قائم ہو کبھی غالب نہیں آسکتی۔