انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 305
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۰۵ سورة محمد کرنے والو! اطیعوا اللهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُول خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے چلے جاؤ۔اس وقت تک کہ تم اس دُنیا میں آخری سانس لو اور میں اس تسلسل کا مفہوم وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ سے نکالتا ہوں چنانچہ وَلَا تُبْطِلُوا اعمالکم میں فرمایا کہ تم اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔کیونکہ نیکی کو سوائے بدی کے اور کوئی چیز ضائع نہیں کر سکتی۔بہر حال نیکی بدی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ہر نیکی بدی کا کفارہ بن جاتی ہے۔ہر نیکی خدا تعالیٰ کی آنکھ میں قہر کو بدل کر پیار کے جذبات پیدا کر دیتی ہے۔لیکن اگر عمر کے آخری حصے میں نیکی کی بجائے بدی اباء اور استکبار ہو تو گویا سب نیکیاں رائیگاں چلی گئیں سب ضائع ہو گئیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو! آخری وقت تک آخری سانس تک خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور رسول کے نائبین کی اطاعت کرتے چلے جانا تا کہ ایسا نہ ہو کہ ولا تبطلوا اعمالکم کی رو سے تمہارا انجام بخیر نہ ہو اور تمہارے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے اور تمہارے اعمال باطل اور ضائع ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں شیطان کے اس شر سے محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمیں فرشتوں کے پہرے میں رکھ کر ہمارا انجام بخیر کرے اور دُنیا کی کوئی طاقت اور دُنیا کی کوئی قوت اور دُنیا کے سارے اموال مل کر بھی ہمیں جھوٹا ثابت کرنے والے نہ ہوں۔( فَلَوْ صَدَقُوا اللہ میں جن کی طرف اشارہ ہے) کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے مطابق ہم سچے ثابت نہ ہوں بلکہ عِند اللہ بچے ثابت نہ ہونے والے گروہ میں شامل ہو جائیں بلکہ ہم اس گروہ میں شامل ہوں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے مَن قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب : ۲۴) کیونکہ انہوں نے اپنے کام حسن سے، پیار سے، ایثار سے، فدائیت کے ساتھ اور عشق الہی میں مست ہو کر پورے کر دیئے اور اب وہ اپنے نیک انجام کو پہنچ گئے۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۱۳۳ تا ۱۴۲) نیا سال نئی برکتوں ،نئی ذمہ داریوں کے ساتھ آ گیا ہے۔ذمہ داریاں بھی پہلے سے بڑھ کر اور انعامات کے وعدے اور بشارتیں بھی پہلے سے زیادہ لے کر۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومن کسی جگہ ٹھہرتا نہیں بلکہ مقامات قرب میں بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے جیسا کہ سورہ محمد کی اس آیت میں ہی جو ابھی میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ہدایت کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت کے مزید سامان ان کے لئے پیدا کر دیتا