انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 300

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة محمد نے یہ حق نہیں دیا کہ اپنے باورچی یا اپنے گھر میں صفائی کرنے والے کے متعلق قول معروف کے علاوہ کوئی اور بات کرو تم ان کے متعلق بھی نیک بات کرو۔ان سے بھی پیار کی بات کروان سے بھی عزت واحترام سے پیش آؤ ورنہ قول معروف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔پس ان تَنْصُرُوا اللہ کی رو سے تم نے اپنے اندر وہ ذہنیت پیدا کرنی ہے اور تم نے طَاعَةُ وَقَوْلُ معرُوف کے لحاظ سے ایک تو کامل اطاعت کا نمونہ دکھانا ہے۔دوسرے اپنے معاشرہ میں کامل حسن کا نمونہ دکھانا ہے کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم کے عظیم نور کی طرح خود بھی ایک عظیم نور تھے۔آپ ایک ایسا نور تھے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ایسا حسن کہ دو خوبصورتیوں میں کوئی دوری نہیں ہے۔کوئی غیریت نہیں ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو حسن اس کے قول کے ذریعہ ظاہر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو حسن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ذریعہ ظاہر ہوا۔اس میں یعنی ان دو خوبصورتیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔پس اس سے یہ ظاہر ہوا کہ تم نے دوسروں کے متعلق نیکی کی باتیں بھی کرنی ہیں اور نیک باتیں بھی کرنی ہیں تم نے دوسروں کے متعلق بری باتیں نہیں کرنی تم نے اطاعت کا کامل نمونہ دکھانا ہے۔تب تم اِن تَنْصُرُوا اللہ کی بنا پر اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہو جو يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ کا مصداق ہے۔کیونکہ تم نے خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے ایک ایسا عزم کر لیا۔ایک ایسا عہد کر لیا۔ایک ایسی نیت کر لی اور ایک ایسا ارادہ کر لیا جو تمہاری ساری زندگی کے ارادوں پر محیط ہو گیا ہے۔تمہارا کوئی ارادہ اس سے باہر نہیں رہا۔تم نے یہ پختہ عزم کر لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے باہر نہیں جائیں گے ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھیں گے، پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جو تکالیف سامنے آئیں گی ہم ان سے بچنے کی کوشش نہیں کریں گے جو روکیں پیدا ہوں گی ہم ان کو پھلانگیں گے یا ان کو پرے ہٹا دیں گے۔اس لئے تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ جی روک پیدا ہوگئی ہے یا ان کو پرے ہٹا دیں گے۔اس لئے تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ جی روک پیدا ہو گئی ہے۔راہ میں کانٹے بچھ گئے ہیں پاؤں زخمی ہوتے ہیں دل دکھتے ہیں سینہ چھلنی ہوتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ چھلنی ہونے دو کیونکہ تم نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے تم خدا کی راہ میں قربانیوں سے منہ نہیں پھیرو گے اور پیٹھ نہیں دکھاؤ گے۔