انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 299

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۹۹ سورة محمد جنہوں نے خدا تعالیٰ سے ایک نیا عہد باندھا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں تیرے دین کے لئے تیری راہ میں وقف کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اِن تَنْصُرُوا اللہ میں جس ذہنیت کی طرف اشارہ ہے اس کی مزید تشریح اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔طَاعَةً وَقَوْلُ مَعْرُوف کامل اطاعت کرنی ہے اور بے چون و چرا اطاعت کرنی ہے اور نیکی کی باتیں کر کے خدا تعالیٰ کی محبت کو دلوں میں پیدا کرنا ہے۔قولِ معروف میں نیک باتوں کے پھیلانے کے معنے بھی آتے ہیں۔اشاعت قرآن کریم کے معنے بھی آتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے متعلق اور بنی نوع انسان کے متعلق نیک باتیں کرنے کے معنے بھی پائے جاتے ہیں۔پس قول معروف کے صرف نیکی کی باتوں کو پھیلانے کے معنے نہیں جس طرح کہ تم عام طور پر کہتے رہتے ہو کہ نماز پڑھنی چاہیے۔وضو کے ساتھ پڑھنی چاہیے شرائط کے ساتھ پڑھنی چاہیے ، وقت پر پڑھنی چاہیے ، مسجد میں جا کر پڑھنی چاہیے، باجماعت پڑھنی چاہیے، خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے وغیرہ سینکڑوں ہزاروں احکام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے یہ بھی قول معروف ہے یہ بھی نیکی کی باتیں ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کو کہتے رہنا چاہیے ذکر میں بھی اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور امام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو احکام یاد دلاتا رہے۔چنانچہ میرا آج کا خطبہ بھی اسی ذکر کے نتیجہ میں ، اسی کی روشنی میں اور اسی حکم کے ماتحت ہے اس لئے کسی کے متعلق بدظنی کی بات نہ کی جائے۔حسن ظن کی جو بات کی جاتی ہے عزت واحترام کی جو بات کی جاتی ہے۔جو حقارت کی بات نہیں ہوتی جو پیارے پیارے نام رکھ کر بات کی جاتی ہے اور برے نام نہیں رکھے جاتے۔حقارت ، ہنسی اور تمسخر نہیں کیا جاتا، غرض یہ ساری باتیں قول معروف کے اندر آ جاتی ہیں یعنی نیکی کے احکام یاد دلانا اور دوسروں کے متعلق اپنی نیک رائے کا اظہار کرنا۔بدظنی نہیں کرنی ، آپس میں بھی نہیں کرنی مگر جس کو خدا تعالیٰ نے امام بنا دیا ہے اس کے متعلق تو بالکل ہی نہیں کرنی کیونکہ اس میں اور بہت ساری ذمہ داریاں آجاتی ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک استاد کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شاگرد کے متعلق اس قسم کی بات کرے اور اسی طرح شاگرد کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے استاد کے متعلق اس قسم کی بات کرے جو قول معروف کے منافی ہے۔اسی طرح اگر تم امیر ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ