انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 293

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۹۳ سورة الاحقاف ہیں اور دس سال کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک زہر تھا۔ہم نے اس دوائی کو بنا کر بڑی غلطی کی اسی طرح آج ایک طبی مشورہ دیتے ہیں اور اگلے چند سال کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے غلط مشورہ دیا تھا۔مثلاً ایک زمانے میں یورپ کے ایلو پیتھی کے اطباء نے کہہ دیا کہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں یہ ان کے لئے نقصان دہ ہے۔مگر اسلام نے یہ کہا تھا حَمْلُهُ وَفِضْلُهُ ثَلْقُوْنَ شَهْرًا یعنی ماں کیلئے ایک معین وقت تک بچے کو دودھ پلانا ضروری ہے۔یہ ماں کی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور بچے کی صحت کے لئے بھی ضروری ہے (اس کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے) لیکن اسلام کے معاندین نے اسلام کی اس تعلیم پر یہ اعتراض کر دیا کہ دودھ پلانے سے بچے کوکوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا ماں کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔چنانچہ ساری دنیا میں اس بات کی تشہیر کی گئی کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہ پلا یا کریں۔آسٹر ملک اور گلیکسو وغیرہ کے دودھ ( جو بند ڈبوں میں دستیاب ہوتے ہیں وہ) پلایا کریں۔جب پندرہ بیس سال گزر گئے اور ان کی ایک نسل صحت کے لحاظ سے تباہ ہوگئی تو پھر یہ اعلان کر دیا کہ ہم نے بڑی بیوقوفی کی تھی اور غلط مشورہ دیا تھا۔بچے کو دودھ پلانے سے تو عورت کی صحت بنتی ہے۔بگڑتی نہیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم دراصل عقل، مشاہدہ اور سائنس کے خلاف نہیں ہے بلکہ سائنس اور عقل اور مشاہدہ قرآن عظیم کی ارفع و عظیم تعلیم کی عظمت اور رفعت کے حق میں دلائل واضحہ پیش کرتے ہیں۔دنیوی علوم قرآن کریم کی تعلیم سے متضاد نہیں بلکہ اس کے تابع ہیں اس لئے دنیا جب قرآن کریم پر اس قسم کے عقلی اعتراضات کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا کر دیتا ہے جو ان اعتراضات کو رڈ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے مطہرین کے گروہ میں سے ایک ایسا شکر بنا تا ہے اور ان کو فہم قرآن عطا کرتا ہے۔وہ غلط قسم کے عقلی اعتراضات کا جواب دیتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم پر حملہ کرنے والوں کو پسپا کرتے ہیں اور ان پر قرآن کریم کی برتری کو ثابت کرتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ ۳۷۹ تا ۳۸۱)