انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 288

۲۸۸ سورة الجاثية تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ایک کو سمجھ آ جائے گا یہ ہے کہ بعض بچے سوکھنے کے مریض ہوتے ہیں اور بچپن سے نہ ہڈی بڑھ رہی ہوتی ہے اور نہ اس کے اوپر گوشت ہوتا ہے اس کو پنجابی میں سوکھا“ کہتے ہیں۔ایسے مریضوں کو اگر مکھی کسی چیز میں لپیٹ کر کھانے کے لئے دی جائے اور وہ اس کو ہضم کر لیں تو یہ سوکھنے کی بیماری کا علاج ہے اور یہ تو ایک فائدہ ہے اس کے اندر اور بہت سے فوائد ہیں۔پس تمام اشیاء خدا تعالیٰ کی صفات سے اثر قبول کر رہی ہیں اور جس غرض کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کریں ) اس غرض کو وہ پورا کر رہی ہیں اور اس طرح یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ قدوس بھی ہے کیونکہ دنیا کی تمام اشیاء جو بے حد و بے شمار ہیں ان کا اثر انسان پر نیک اور پاک اور مفید ہے گندہ اور مصر نہیں ہے۔اس لئے جس چشمہ سے وہ نکلی ہیں اس پر بھی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اپنے ان اثرات سے وہ یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ پاک ہے یہ ان کی زبان ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے کہ ہر چیز اس کی حمد کر رہی ہے اور اس کی تسبیح کر رہی ہے لیکن تم ان کی آواز کو نہیں سمجھ سکتے اور ایک آواز یہی ہے۔پتا نہیں اور کتنی آواز میں خدا تعالیٰ نے ان کو دی ہیں۔پس جیسا کہ خدائے قدوس نے کہا تھا تمام اشیاء انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے انسان خدمت نہ لے سکے اور صحیح ذاتی خاندانی اور علاقائی خدمت اور بنی نوع انسان کی خوشحالی اور اس کے اطمینان اور اس کی ترقیات کے لئے ان اشیاء کو کام میں نہ لگایا جاسکے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۴۶۶ تا ۴۶۸) اور عورت کے متعلق آج بڑا اعتراض ہو رہا ہے بعض ہماری اپنی نالائقیوں کے نتیجہ میں کہ اسلام میں عورت کے حقوق نہیں بتائے ، قائم کئے ، حفاظت کی، یہ بات نہیں چارسو دس آیت سے زیادہ تو ایسی ہیں جن میں عورت کا عورت کر کے ذکر کیا گیا ہے، کتنا بڑا مضمون ہوگا کہ ایک ہی آیت چار مختلف جگہ سے میں نے لی ہے وہ اس کے اندر ہی مضمون نہیں ختم ہو رہا چارسو دس جگہ لیکن ان میں سے بعض جگہیں ایسی ہیں کہ ایک ہی آیت کہہ رہی ہے کہ جہاں بھی کم کر کے قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے یایھا الذین کہہ کے بات کی گئی ہے اس میں مرد اور عورت ہر دو شامل ہیں تو ساری قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس میں عورت اسی طرح شامل ہے گیلی مٹی سے بنایا مرد کو بھی عورت کو بھی یہ مدارج میں سے گزار کے ارتقائی مدارج میں سے گزار کے اس کا جسم بنا وہ ایک جیسے ہے کوئی فرق نہیں جو اس جسم میں اس