انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 267

۲۶۷ سورة الشورى تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث محض ورلی زندگی کا سامان نہیں رہتا لیکن ایمان کے اندر بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔وہ اس طرح پر کہ شیطانی وسوسہ آتا ہے اور انسان میں کئی خامیاں پیدا ہوجاتی ہیں مثلاً خودنمائی یا اپنے نفس پر تو کل یا اپنی اس حقیر سی قربانی پر بھروسہ کر لینا ہو جو انسان خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔اس وقت ایمان ایک بگڑا ہوا ایمان کرم خوردہ ایمان، بے جان ایمان اور بے روح ایمان بن جاتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ توکل بڑا ضروری ہے محض ایمان کافی نہیں۔اپنے نفس کے کسی پہلو پر بھی ، اپنی طاقت کی کسی بڑائی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا بلکہ بھروسہ محض خدا پر اور محض خدا پر کرنا ہے۔اللہ پر جس نے کہ ہمیں یہ سب کچھ دیا اور جس کے فضل کے بغیر ہم ان سامانوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے جس کے فضل کے بغیر ہم صحیح نتائج نہیں نکال سکتے جس کے فضل کے بغیر ہم اس کی رضا کی جنتوں کو نہیں پاسکتے۔وَعَلَى رَبِّهِمْ يتولون وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے ایمان کی روح مردہ نہیں ہوتی بلکہ زندہ ہوتی ہے ان کے ایمان کی روشنی میں اندھیروں کی ملاوٹ نہیں ہوتی بلکہ خالص نور ہوتا ہے، اُن کے ایمان کے کسی پہلو میں خود نمائی ، خودستائی اور خود پرستی اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے کا کوئی پہلو نہیں ہوتا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایسا انسان سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا کیونکہ سب کچھ کرنے کے بعد جو کچھ کیا اگر وہ خدا کی نگاہ میں قبول نہیں ہوا تو اُس نے کچھ بھی نہ کیا اور جب انسان سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا تو نتیجہ پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر منحصر ہے۔پس وہ لوگ کامل تو کل کی راہ کو اختیار کرتے ہیں تب وہ جو محض مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْیا تھا اس کی شکل بدل جاتی ہے اور ابدی زندگی کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں جہاں ٹھہر نا کہیں نہیں۔قرآن کریم میں بھی اور قرآن کریم کی اس تفسیر میں بھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی بڑی وضاحت سے یہ آیا ہے کہ جنتوں میں بھی کوئی صبح پہلی شام کے برابر نہیں ہوگی بلکہ وہ صبح اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر رہی ہوگی ہر دو پہر صبح سے آگے اور ترقی یافتہ ہو گی اور ہر شام دو پہر سے آگے ہوگی۔خدا تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایک غیر متناہی سلسلہ ہوگا۔عمل ہو گا امتحان کے بغیر ! خدا تعالیٰ کے پیار میں زیادتی کو جذب کرنے والا ، خدا تعالیٰ کی محبت کو اس کی رحمت کو اس کے نور کو اور بھی زیادہ حاصل کرنے والا عمل۔وہ کیا ہوگا ہمیں نہیں معلوم اس دُنیا میں۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ چیز جو اپنے نفس میں