انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 261
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۶۱ سورة الشورى ایمان باوجود پختہ ہونے کے اور اعتقادات صحیحہ ہونے کے اور اس کی کوشش اعمالِ صالحہ کی ہے اور اعمال صالحہ وہ بجالا رہا ہے اپنی طرف سے یہ کافی نہیں۔وہ دعا مانگتا ہے کہ اے خدا! میرے اعتقادات میں، میری سمجھ میں اگر کوئی خامی ہے تو اسے نظر انداز کر دے اور اگر کوئی کمزوری ہے میرے اعمال صالحہ میں تو اسے ڈھانپ دے مغفرت کی چادر میں اور دعا کرتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کو جذب کرنے کے لئے اور اس کے فضل اور رحمت کو جذب کر لیتا ہے اور اس کے اعمال مقبول ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مقبول اعمال کے باوجود پھر بھی کچھ کمی رہ گئی۔وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ان اعمال مقبول سے کچھ زائد دیتا ہے اللہ تعالیٰ۔تب جا کے مقصود حاصل ہوتا ہے یعنی حسنات جو ہیں وہ جتنی سیئات مٹا چکیں اس سے زیادہ سیئات کو مٹانے کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ تو بہ کو قبول کرتا اور جتنی حسنات جس قدر سیئات مٹا سکی تھیں اس سے باقی جو رہ گئیں وہ تو بہ کے ذریعے مٹادی جاتی ہیں اور انسان ایمان پر پختگی سے قائم ہوتا اور اعمال صالحہ بجالاتا ہے اور عاجزانہ دعائیں کرتا ہے کہ اے خدا! میری تدبیر تو ایک بچے کی تدبیر ہے تیرے حضور۔تیری رفعتوں کو دیکھتے ہوئے تیری عظمتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے کوئی چیز نہیں ہیں یہ اعمال ، اس واسطے اپنے فضل سے ان کو قبول کر۔پھر خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کو وہ جذب کرتا اور خدا تعالیٰ اپنے مومن بندے کو پاک اور مطہر کرتا ، اس کے اعمال مقبول کر لیتا ہے لیکن یہاں اس طرف اشارہ ہے وَ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ اس کے علاوہ اس کو کچھ اور بھی چاہیے اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس کو وہ دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا فضل بندے کے ایمان اور عمل صالحہ کے علاوہ اسے ملنا چاہیے تا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نباہ سکے۔وَالْكَفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ لیکن جو انکار کرنے والے ہیں ان کو ان کے اعمال کے مطابق اگر وہ چاہے تو عذاب دے گا زیادتی وہاں نہیں ہوگی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۵۵ تا ۵۸) آیت ۳۷ فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرُ وَ ابْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ جو آیت میں نے اس وقت تلاوت کی ہے اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کو جو