انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 260

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۶۰ سورة الشورى اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے اور اس سے مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے اور اپنے خدا سے کہتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تیرے سوا مجھے کوئی بخشنے والا نہیں۔تیرے سوا مجھے کوئی پاک کرنے والا نہیں۔قرآن کریم نے ( دوسرا مضمون ہے اشارہ کر دوں یہ فرمایا ہے کہ تزکیہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ) اس لئے میرے گناہ کو معاف کرے۔وَ يَعُفُوا عَنِ السَّبِياتِ ایک حصہ سیئات کا اس طرح اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے لیکن جو گناہ اور سیئات ہیں اور جو غلطیاں انسان سے سرزد ہو جاتی ہیں، خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنے کا وہ مرتکب ہو جاتا ہے۔یہ برائیاں جو ہیں انہیں دوطریقے سے دور کیا جاسکتا ہے قرآنِ عظیم کی تعلیم کے مطابق۔ایک یہ کہ إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: ۱۱۵) اگر نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو تو ساری کی ساری برائیاں جو ہیں وہ دور ہو جاتی ہیں۔مگر کون انسان ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میری نیکیوں کا پلڑا سیئات سے بھاری ہے۔اس واسطے ایک حصہ تو نیکیوں کے نتیجہ میں جن کی اللہ تعالیٰ سے انسان توفیق پاتا ہے۔اس طرح دور ہو جاتا ہے اور جو رہ جاتی ہیں باقی وہ توجہ کے نتیجہ میں و يَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ اللہ تعالیٰ ان سیئات کو دور کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ خدا تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔اس واسطے ہر کام میں خلوص نیت کا ہونا ضروری ہے۔انسان انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے۔انسان اپنے پیدا کرنے والے ربّ کریم کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔اور دوسری شق یہاں یہ بتائی کہ وہ جو ایمان لائے اور اس کے مطابق انہوں نے اعمالِ صالحہ کئے اور ان روحانی اور اخلاقی تدابیر کے بعد انہوں نے یہ سمجھا کہ محض ہماری کوشش کافی نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہمارے اعمال کے ساتھ شامل نہ ہو اور انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! ہزار کیڑے ہیں ہمارے اعمال میں تو ان کیڑوں کو قتل کر دے۔ہزار کمزوریاں ہیں ہمارے افعال میں اور نیکیوں میں وہ بھی جو ہم جانتے ہیں اور وہ بھی جو ہم نہیں جانتے، تو ایسا کر کہ ہمارے اعمال تیری نگاہ میں مقبول ہو جا ئیں۔تو يَسْتَجِيبُ وہ دعا کرتے ہیں خالی ایمان اور عمل صالح کو کافی نہیں سمجھتے۔وہ دعا کرتے ہیں اور دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو اور ان کے اعتقادات صحیحہ کو قبول کر لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کافی نہیں ہے۔اس مقام کے حصول کے لئے جس مقام پر اللہ تعالیٰ لے جانا چاہتا ہے یعنی آسمانی رفعتوں کی طرف اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان تک پہنچانا چاہتا ہے مسلمان کو۔اس کا