انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 17
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۷ سورة الروم تجھے دھوکہ دے کر مقام صبر سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔اس میں وہ کامیاب نہ ہوں ان سے ہوشیار رہنا۔چھٹی بات جو خدائی وعدے ہیں وہ بہر حال اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔دنیا جتنا چاہے زور لگالے اللہ تعالیٰ کے وعدوں نے تو بہر حال پورا ہونا ہے۔ان وعدوں کے پورا ہونے کے وقت جنہوں نے ان وعدوں کے پورا ہونے کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا ہے وہ ہوں گے جو صبر اور استقلال اور استقامت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حکم بجالانے والے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب ہم صبر کریں گے جب ہم خدا تعالیٰ سے جو وفا کا عہد باندھا ہے اسے توڑیں گے نہیں بلکہ اس کے وفادار بندے بن کر اپنی زندگیاں گزاریں گے وہ انعام پائیں گے اس وقت جب وہ وعدہ پورا ہوگا اور جو لوگ کسی کے بہکانے میں آجائیں گے دہر یہ منکر دشمن خدا کے بہکانے میں یا ان لوگوں کے بہکانے میں جو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے وعدہ پورا ہونے کے وقت ان وعدوں کی برکتوں میں اس گروہ کا تو بہر حال حصہ نہیں ہوگا۔اس واسطے ہمیں یہ متنبہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگ تجھے دھوکہ دے کر اپنی جگہ یا مقام صبر ثبات قدم استقامت استقلال کا جو مقام ہے انسان کا ایک بڑا بزرگ مقام وہاں سے ہٹانے کی کوشش کریں گے ان کے جال میں نہ پھنسنا یہ چھٹی بات ہے یعنی پہلے تو یہ تھا نا کہ کوشش کریں گے وہ۔چھٹے ہمیں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کے فریب سے بچے رہناور نہ نقصان اٹھاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۳۹۳ تا ۳۹۸)