انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 259

تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۲۵۹ سورة الشورى دوسرے یہ کہا کہ اپنے ملک کے اندر حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ انصاف اور عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑے اور تعصبات سے بالا ہو کر عدل کے مقام کو مضبوطی سے پکڑ کے اسلامی تعلیم کی روشنی میں وہ حکومت چلائے تا کہ ملک کے اندر خوشحالی پیدا ہو۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۷۴ تا ۳۷۹) آیت ۲۷،۲۶ وَهُوَ الَّذِى يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَ يَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ وَ يَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ مِنْ فَضْلِهِ وَالْكَفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ خدا تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے قرآن عظیم نے جو ہمیں تعلیم دی اس کی پہلی شق یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کے لحاظ سے پاک اور مطہر ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔اس لئے گناہ جو ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں یا تو وہ سرزد نہ ہوں۔اگر سر زد ہوں تو اللہ تعالیٰ سے رحمت اور فضل حاصل کیا جائے یا قرآن کریم نے ایسا راستہ بتایا ہو کہ وہ گناہ معاف ہوسکیں کیونکہ جو گند میں ملوث اور ناپاک وجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث نہیں ہوسکتا لیکن یہ تو بنیادی منفی حصہ ہے ہماری زندگی کا۔دوسری شق اس کی یہ ہے کہ ہمارے اعمال خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اتنا حسن اپنے اندر رکھتے ہوں اور اتنا نور کہ وہ جو نُورُ السَّبُوتِ وَالْاَرْضِ ( النور : ۳۶) ہے وہ ہمیں اور ہماری کوششوں کو پسند کرنے لگے۔قرآن کریم نے ان دو پہلوؤں پر ان آیات میں روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الشوریٰ میں فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِى يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَالْكَفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ یہ جو دو آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں اس پہلی شق کا ذکر ہے۔اس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے معصوم نہیں یعنی ان کی فطرت ایسی نہیں جو فرشتوں کی ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحريم:۷) جو حکم ہو وہ بجالائیں ان سے غلطی سرزد ہوتی ہے، وہ گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔فطرت انسانی ایسی بنائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ دونوں راہیں اس کے لئے کھولی ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو وہ غلطی کرنے کے بعد تو بہ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور جب وہ خدا کے حضور عاجزانہ جھکتا اور