انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 258 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 258

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۵۸ سورة الشورى پناہ میں آنا چاہتے ہو، اگر تم تقویٰ کی چادر میں اپنے وجود کو لپیٹ کر شیطان کے تمام حملوں سے محفوظ رہنا چاہتے اور میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں عدل کے مقام پر قائم رہنا ہوگا۔چوتھے یہ بتایا کہ جب تک کوئی شخص عدل کے مقام پر مضبوطی سے قائم نہ رہے وہ یہ خیال دل میں نہ لائے کہ اسے پھر خدا کی پناہ بھی ملے گی اور اس کی مدد اور نصرت بھی حاصل ہوگی۔پانچویں یہ کہا کہ انصاف کرو اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو۔چھٹے یہ بتایا کہ جو عدل نہیں کرتے وہ پھر کسی خیر کی طاقت نہیں رکھتے۔فساد ہی پیدا کرنے والے ہیں۔ساتویں یہ بتایا کہ جو عدل نہیں کرتے وہ صراط مستقیم پر نہیں۔بھٹکے ہوئے ہیں۔مقصدِ حیات کو وہ حاصل نہیں کر سکتے۔آٹھویں یہ بتایا کہ خواہشات نفس کی پیروی عدل وانصاف کی راہ سے دور لے جاتی ہے۔اس واسطے ہوائے نفس کی پیروی نہیں کرنی اور نویں یہ بتایا (۱) جو اہل ہیں ان کو ان کی امانتیں دو اور (ب) جو فیصلے ہوں ان میں عدل ہو۔یہ دوسری آیت ہے جو پڑھنے سے رہ گئی ہے۔تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء :۵۹) جو اہل ہیں ان کو ان کی امانتیں دو۔اہلیت خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت سے ثابت ہوتی ہے۔اہلیت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں کی نشوونما سے ظاہر ہوتی ہے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ وہ یو نیورسٹی میں فرسٹ آتا ہے اور ریکارڈ توڑتا ہے خدا کہتا ہے جو اہل ہے اس کو اس کی امانت دو۔اس کی Appreciation کرو ایک تو یہ ہے۔پھر اگر کوئی وظیفہ فرسٹ آنے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو یہ کوشش نہ کرو کہ اس شخص کو نہ ملے بلکہ ہمارے کسی دوست کے بیٹے کو ملے جو فرسٹ نہیں آیا۔دنیا میں یہ ہوتا رہتا ہے۔ساری دنیا ہی گند میں ملوث ہوئی ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ نے پھر یہ کہا کہ اہلیت کی بنا پر ہی نہیں بعض ایسے حقوق ہیں۔دراصل تو ہر حق ہی اہلیت کی بنا پر آتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ ہے کہ بعض تو ایسے فیصلے ہیں جن کا تعلق حاکم وقت سے نہیں مثلاً یو نیورسٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔بعض کا فیصلہ باہمی پنچائیتوں نے کرنا ہے۔باہمی گفت وشنید نے کرنا ہے۔بعض کا فیصلہ باہمی اقوام نے کرنا ہے یہ بہت ساری ایسی اہلیتیں جن کا تعلق حاکم وقت سے نہیں۔تو پہلے یہ اصول بتادیا کہ ہرا ہلیت جو بھی مطالبہ کرتی ہے وہ امانت ہے اور وہ امانت حق دار کو ، جو اہل ہے اسے ملنی چاہیے اور