انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 254

تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۲۵۴ سورة الشورى گیا۔اس کے باوجود وہ الگ کا الگ بھی رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا اور اس کائنات میں سب کچھ پیدا کر کے پھر بھی وہ مخلوق کا عین نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا اور حقیقی تقدس اور توحید کے مقام پر جلوہ افروز ہے۔خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۱۱،۲۱۰) ج آیت ۱۶ فَلِذلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ لَا تَتَّبِعُ اهوَاءهُمْ وَقُلْ أَمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ مِنْ كِتَبِ ۚ وَأُمِرْتُ لِاعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ط b دوسرا ہے عدل۔جیسا کہ میں نے بتایا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم كافة للناس مبعوث ہوئے۔اس واسطے جہاں بھی سن“ کی ضمیر آئی ہے سوائے اس کے کہ وہاں قرینہ ہو کہ اس کو ہم محدود کر دیں وہ سارے انسانوں کی طرف پھرتی ہے سارے قرآن کریم میں۔سورہ شوری میں ہے وَأُمِرْتُ لِاعْدِلَ بَيْنَكُمُ (الشوری :۱۲) مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ میں تم سب انسانوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کروں اور بنی نوع انسان میں عدل کو قائم کروں۔تو بینک کی ضمیر جیسا کہ میں نے بتایا یہ سب انسانوں کی طرف پھرتی ہے قطع نظر اس کے کہ ان کے عقائد کیا ہیں یا ان کا علاقہ کیا ہے۔عدل کے معنی کئے گئے ہیں التَّقْسِيْط عَلى سَوَاء - (المفردات فی غریب القرآن) زیر لفظ عدل) برابر کا سلوک کرنا۔یہ مفردات میں ہے۔والعدل ضربان دو قسم کا عدل ہے۔ایک مطلق عدل جس کو ہماری عقل اور ہماری فطرت عدل قرار دیتی ہے اور قرآن کریم اس کے اوپر روشنی ڈالتا ہے اور یہ وہ عدل ہے جس کے حسن کی عقل بھی گواہی دیتی ہے، انسانی فطرت بھی ، قرآن کریم کی تعلیم بھی اور وہ تعلیم مستقل نوعیت کی ہے۔حالات کے ساتھ یہ اجازت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی آئے۔مثلاً الْإِحْسَانُ إِلى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ (المفردات فی غریب القرآن زیر لفظ عدل) جو شخص تم پر احسان کرتا ہے تم بھی اس پر احسان کرو۔یہ عدل ہے۔کسی حالت میں بھی یہ حکم بدلتا نہیں۔