انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 253
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۵۳ سورة الشورى بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الشورى آیت ۱۲ فَاطِرُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ درووو پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مخلوق کے ساتھ شدید تعلق رکھنے کے باوجود یعنی ہر ایک جان کی جان، ہر چستی کا سہارا اور ہر ہستی کو قائم رکھنے کے باوجود وہ الگ ہے۔وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔الْحَقُّ کے معنے نیست سے ہست کرنے اور القیوم کے معنی اس کو قائم رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں۔وہ الحی ہے انسان کو زندگی دیتا ہے۔وہ القیوم ہے اس کی زندگی کو قائم رکھتا ہے اور اس میں ایک پہلو تو اللہ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا اس کی مخلوق سے۔القیوم کی رو سے وہ سہارا بنتا ہے ہر ایک چیز کا تب وہ قائم رہتی ہے لیکن اس تعلق کے باوجود وہ لیسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ بھی ہے اور اسْتَوَى عَلَى العرش (الاعراف: ۵۵) بھی ہے۔وہ سب سے برتر اور تمام مخلوق سے وراء الوراء بھی ہے اور تقدس کے مقام پر جلوہ گر ہے اور اس طرح الگ کا الگ بھی رہا، وہ انسان کے ساتھ مل بھی گیا۔اس نے انسان کے ساتھ تعلق بھی قائم کیا۔انسان نے اس کے پیار کی باتیں بھی سنیں۔انسان نے اس کی قدرت کے زبر دست ہاتھ کے کرشمے بھی دیکھے۔گویا وہ دور ہونے کے باوجود انسان کے قریب بھی آ گیا۔انسان کیا ہے؟ خدا کی ایک عاجز مخلوق ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عاجز بندے سے شدید تعلق بھی قائم کر لیا۔وہ اپنے بندے کی جان کی جان بھی بن گیا اور اس کی ہستی کا سہارا بھی بن