انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 252
۲۵۲ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث جاؤ گے۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دعائیں کرتے چلے جائیں اور دعوت الی اللہ اور إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ کی رُو سے اس امر کا ثبوت دیتے چلے جائیں کہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں ، اپنے وعدے کے مطابق تکالیف اللہ تعالیٰ خود دور کرتا چلا جائے گا۔ہمارے ذریعہ سے تمام بنی نوع انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے لیکن اس کے لئے ہمیں تو کل کے اعلیٰ مقام پر قائم ہوکر قربانیاں دینی ہوں گی اور دعائیں کرنا پڑیں گی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں وہ الگ ہوجا ئیں خدا انہیں خود جماعت سے کاٹ دے گا۔بچے گا وہی جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن کو تھامے گا اور آپ کو ملنے والی بشارتوں اور وعدوں پر زندہ ایمان رکھتے ہوئے دنیا میں غلبہ اسلام کے لئے انشراح صدر کے ساتھ قربانیاں پیش کر کے اپنے آپ کو خدائی افضال و انعامات کا (خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۳۹ تا ۱۴۳) مورد بنائے گا۔