انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 251 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 251

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۵۱ سورة حم السجدة۔عین مطابق ہوتا ہے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس امر کی پرواہ کئے بغیر کہ دوسرے اسے کیا کہتے ہیں یا کیا نہیں کہتے خود کہے اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ایسا قول تو جس کے ساتھ نہ اعتقاد ہوا اور نہ عمل منافق کا قول ہوتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی قابل التفات نہیں ہوتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قول بے عمل کا کھو کھلا پن ظاہر کرنے کے لئے منافقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَوكَ بِمَا لَمْ يُحَيْكَ بِهِ اللهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَو لَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ (المجادلة : ٩) یعنی اے رسول ! جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ایسے لفظوں سے دعا دیتے ہیں جن میں خدا نے دعا نہیں دی۔مراد یہ کہ دعا میں بناوٹ کے طور پر مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور پھر اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ کیوں اللہ ہمارے منافقانہ قول کی وجہ سے ہمیں عذاب نہیں دیتا۔اسی لئے قرآنی محاورہ کی رُو سے قول احسن وہی قول ہو گا جس میں ظاہری الفاظ صحیح عقیدہ اور عمل تینوں شامل ہوں۔یہ معنے امام راغب نے مفردات میں کئے ہیں اور استدلال انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت سے کیا ہے الَّذِینَ إذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة:۱۵۷) انہوں نے اس آیت سے استدلال کر کے قول احسن میں اقرار ، اعتقاد، اور عمل تینوں کو شامل کیا ہے۔قول احسن کے ان معانی کی رو سے دعا الی اللہ کے معنے ہوں گے خود قولی ، اعتقادی اور عملی لحاظ سے ایمان باللہ سے متصف ہو کر دوسروں کو خدا کی طرف بلانا، یعنی انہیں اس امر کی دعوت کرنا کہ وہ صحیح اعتقاد پر قائم ہو کر اعمال صالحہ بجالائیں اور اس طرح اس کی ناراضگی سے بچیں اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بنیں۔یہ ہے دعوت الی اللہ اور جو شخص بھی قولی ، اعتقادی اور عملی لحاظ سے خود ایمان باللہ سے متصف ہو کر دوسروں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور یہ عرض کر سکے کہ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دنیا کو اللہ کی طرف دعوت دیتے چلے جائیں اور ایسے بنیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں ہم عرض کر سکیں اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ اسلام تمہارے ذریعہ سے نوع انسانی کے دل جیتے گا اور دنیا پر غالب آکر انہیں امت واحدہ میں تبدیل کر دکھائے گا۔رہیں اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات سو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ اعلان کیا ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں گی اور اس کے نتیجہ میں تم وَيَكْشِفُ السُّوء کا نظارہ دیکھتے چلے